.

تیونس: فول پروف سیکیورٹی میں یہودیوں کے حج کی تقریبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے جنوبی جزیرہ جربہ میں کل بدھ سے یہودیوں کے سالانہ ’حج‘ کے حوالے سے مذہبی تقریبات کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس موقع پر دہشت گردی کے واقعات اور کسی بھی نا خوش گوار واقعے کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہودیوں کی جربہ آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کل بدھ کو سخت گرمی میں یہودی حجاج کے گروپ الغریبہ معبد میں آنا شروع ہوگئے تھے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہودی حج منتظمین کو توقع ہے کہ دو روز میں جزیرہ جربہ آنے والے یہودیوں کی تعداد 2 ہزار سے زاید ہوگی، تاہم تیونس میں پچھلے کچھ عرصے سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد ماحول میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

یہودی عبادت گاہ اور اس کے آس پاس سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور فوج کی اضافی نفری کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ زائرین کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ عبادت گاہ میں آنے والے یہودی زائرین کی بھی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ تیونس کے جنوب میں واقع جزیرہ جربہ میں یہودیوں کی سالانہ مذہبی تقریبات کے موقع پر سنہ 2002ء میں ایک خودکش حملے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم القاعدہ نے قبول کی تھی۔ اس واقعے کے بعد وہاں آنے والے یہودی زائرین کی تعداد بہ تدریج کم ہوتی گئی۔ خود کش حملے سے قبل وہاں پر حج کے لیے آنے والے یہودیوں کی تعداد 8 ہزار تک ہوتی تھی اور اب یہ تعداد کم ہو کر دو ہزار تک رہ گئی ہے۔

الغریبہ معبد کے سربراہ پیریز طرابلسی کا کہنا ہے کہ یہودی پچھلے 200 سال سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے یہاں تواتر کے ساتھ آتے ہیں۔ یہاں آنے والے یہودی اپنے مذہب کے مطابق نماز اور دعا کے اہتمام کے ساتھ ساتھ شمع روشن کرتے، جانور قربان کرتے اور کھجور کی تیار کردہ نبیذ بہ طور تبرک پیتے ہیں۔

جزیرہ جربہ میں حج کی تقریبات میں بیرون ملک سے بھی یہودی وہاں پہنچتے ہیں کیونکہ تیونس میں کل ڈیڑھ ہزار یہودی قیام پذیر ہیں، جن کی اکثریت جزیرہ جربہ میں ہے۔ تیونس کی سنہ 1956ء میں فرانس سے آزادی کے وقت دارالحکومت تیونسیہ میں ایک لاکھ یہودی رہائش پذیرتھے، جو بعد ازاں اسرائیل اور یورپی ملکوں کو نقل مکانی کرگئے تھے۔