.

برطانوی وزارت خارجہ کے بلّے پر "جیمز بانڈ" ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کی جانب سے بھرتی کیا گیا بِلّا "پامرسٹن" بہت سے لوگوں کے لیے حسد کا باعث ہے۔ پامرسٹن کو "چوہوں کے چیف شکاری" کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے دفتر میں بھی "لیری" نامی ایک بلا 2011 سے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر واقع کابینہ کے صدر دفتر کو، چوہوں سے محفوظ رکھنے کے مشن میں عملی طور پر مصروف ہے۔

ادھر وزارت خارجہ کے دفتر میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے بلّے پامرسٹن کو غالبا کسی کی نظر لگ گئی ہے اور اب اسے مشکلات اور شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن کیتھ سمپسن نے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ آیا پامرسٹن کہیں یورپی یونین میں سرگرم "معاند قوتوں" کا جاسوس تو نہیں۔

پارلیمنٹ کے مذکورہ رکن اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس بلّے کو ایسے منصب پر فائز کرنے سے پہلے جہاں اسے وزارت خارجہ میں دن رات موجود رہنے کی اجازت ہو، سیکورٹی اداروں نے اس کو اچھی طرح سے چیک کیا تھا جب کہ عمارت میں ایسے کمرے بھی ہیں جہاں انتہائی خفیہ اور رازدارانہ دستاویزات بھی پائے جاتے ہیں؟

پامرسٹن اپنے "عہدے" کے سبب وزارت خارجہ کی مشینوں، ملازمین، دورہ کرنے والوں جن میں اہم ترین عالمی شخصیات بھی شامل ہیں، ان کے پاس گھومنے پھرنے میں آزاد ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ کسی "خفیہ ہاتھ" نے اس میں کوئی ٹرانسمیٹر یا کیمرا نصب کردیا ہو جس کے ذریعے دور بیٹھ کر وزارت خارجہ میں ہونے والی اہم بات چیت یا مناظر تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہو۔

پہلا شکار ایک چوہیا جس کو ایسے ہضم کیا گویا وہ تھی ہی نہیں

بلّے اور بلّیوں کی دنیا میں Palmerston نام بڑی حد تک غیر مانوس شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم مذکورہ بلّے کو یہ نام دو مرتبہ برطانیہ کے وزیراعظم بننے والے لارڈ وسکاؤنٹ پامرسٹن کے اعزاز میں دیا گیا ہے جو 1865 میں 81 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ وزارت عظمی سے قبل پامرسٹن برطانیہ کے وزیر خارجہ بھی رہے۔ سفید اور کالے رنگ کے مالک دو سالہ پامرسٹن کا " تقرر" محض ایک ماہ قبل عمل میں آیا تھا۔ وزارت خارجہ کے اس ہونہار سپوت نے اپنا پہلا شکار 3 مئی کو ایک چُوہیا کی صورت میں کیا اور پھر اسے اس طرح سے لقمہ بنا کر ہضم کیا گویا کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ منگل کے روز "سرکاری طور پر" پامرسٹن کے دفاع کے لیے میدان میں آگئے۔ انہوں نے باور کرایا کہ وزارت خارجہ میں "چوہوں کے شکار" کے یونٹ کا سربراہ "کسی غیرملکی انٹیلجنس کا ایجنٹ نہیں ہے اور پامرسٹن کا باقاعدہ چیک اپ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ "ٹوئیٹر" پر اس بلّے کے فالوورز (انسانوں اور جانوروں) کی تعداد جمعرات کے روز تک 9657 ہوچکی تھی۔

اوباما کے درشن کرنے والا بلّا

جہاں تک برطانیہ کے مشہور ترین بلّے کا تعلق ہے تو وہ بھی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر حسد کا مرکز ہے۔ 2007 میں لندن میں پیدا ہونے والاLarry بھی چوہوں کے "چیف شکاری" کے منصب پر فائز ہے۔ موصوف کا رہائشی پتہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر واقع برطانوی حکومت کا صدر دفتر ہے۔ مئی 2011 میں امریکی صدر نے لیری کو ملاقات کا شرف بخشا اور اس کا تعارف حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اوباما نے لیری کو گود میں لے کر پیار کیا اور پھر تحفے سے بھی نوازا۔

لیری کے سوشل میڈیا پر بھی اکاؤنٹس ہیں۔ ٹوئیٹر پر اس کے فالوورز (انسانوں اور جانوروں) کی مجموعی تعداد 49 ہزار 600 ہوچکی ہے۔ یہ ہی نہیں بلکہ 2011 میں اکاؤنٹ کے آغاز کے بعد سے لیری کی جانب سے 11300 ٹوئیٹس کیے جاچکے ہیں۔

لیری کے سب سے بڑے پرستار اور دیوانے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ہیں۔ جون 2011 میں برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کیمرون نے لیری کو انتہائی مستعد اور چابک دستی سے بھرپور قرار دیا۔ ان کے مطابق لیری نے صرف 4 ماہ میں 3 بڑے چوہوں کو شکار بنا کر ان کی زندگی کا چراغ بجھا دیا جو کہ ایک اچھا نتیجہ ہے۔