.

اسلام میں موسیقی نہیں ،گانا حرام ہے: امام مسجد قبا

مساجد کی تعمیر اچھی بات، مگر غریب مریضوں کے لیے مراکزِ صحت بھی بنائے جائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مدینہ منوّرہ کی تاریخی مسجد قبا کے امام شیخ صالح المغامسی نے کہا ہے کہ اسلام میں موسیقی حرام یا ممنوع نہیں ہے۔ انھوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ موسیقی کا حوالہ دے رہے ہیں گانا گانے کا نہیں اور گانا حرام ہے۔

وہ ایم بی سی چینل کے ایک ٹاک شو میں گفتگو کررہے تھے۔ یاسرعمرو اس ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''قوم کو ایجاد وجدت کی اشد ضرورت ہے۔میں اس میں یقین رکھتا ہوں ،خواہ لوگ میرا نقطہ نظر تسلیم کریں یا نہیں''۔

اس شو میں انھوں نے موسیقی سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میں اس ایشو پر کسی تنقید کا جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔ جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے۔تین مسلم اسکالروں نے مختلف چیزوں کا تذکرہ کیا ہے۔اگرچہ کہ ان میں زیادہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ گانا بجانا ہے جس کا قرآن مجید میں حوالہ دیا گیا ہے اور موسیقی نہیں۔موسیقی کلام نہیں،آلات ہیں اور ان کا قرآن مجید میں صراحتاً حوالہ نہیں دیا گیا ہے''۔

انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ''آج کے دور میں عورتیں اور مرد اکٹھے مل کر گاتے ہیں اور یہ ممنوع ہے۔مجھ سے موبائل فونز میں موسیقی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔اس میں اہم چیز لوگوں کو گناہ آلود کرنا ہے اور موسیقی کے ایشو کو اس طرح پیش کرکے بیان کرنا ہے جیسے یہ ہماری بنیادی کاز یا زندگی کا لازمہ کوئی چیز ہے''۔

علامہ المغامسی نے مساجد کی تعمیر سے متعلق سوال پر کہا کہ ''دوسرے بھی ایسے بہت سے شعبے ہیں جن پر ہمیں اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ ہر کہیں مساجد موجود ہیں۔ہر امیر آدمی ایک ولا تعمیر کرتا ہے اور پھر اس کے آگے ایک مسجد بھی بنا دیتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مسجد کی تعمیر اچھی بات ہے اور اس کا حکم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ غریب مریضوں کے علاج کے لیے مراکزِ صحت کی تعمیر، بے گھر افراد کے لیے جگہیں بنانا اور کمیونٹی کو فلاحی خدمات کی فراہمی بھی اہمیت کے حامل ہیں''۔