.

خاندانی منصوبہ بندی مسلمانوں کے لیے نہیں: طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل طریقوں کا استعمال مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔

انھوں نے استنبول میں ایک تقریر میں کہا ہے کہ ''ترکی کی آبادی میں اضافہ ماؤں کی ذمے داری ہے''۔واضح رہے کہ ترکی میں آبادی میں اضافے کی شرح محض 1.3 فی صد ہے اور اسی بنا پر ترک صدر آبادی میں اضافے پر زوردیتے رہتے ہیں جس پر عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں ان کے خلاف غوغا آرائی بھی کرتی رہتی ہیں۔

صدر ایردوآن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''میں واضح طور پر کہوں گا کہ ہمیں اپنے وارثوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔لوگ خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کی پیدائش پر کنٹرول کی باتیں کرتے ہیں۔کوئی مسلمان خاندان اس کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اس کو قبول کر سکتا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''جیسا ہمیں اللہ تعالیٰ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے،ہم اس کے مطابق چلیں گے اور اس سلسلے میں پہلی ذمے داری ماؤں کی ہے''۔

خود رجب طیب ایردوآن اور ان کی اہلیہ ایمن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کی چھوٹی بیٹی سمیّہ کی اسی ماہ کے اوائل میں دفاعی صنعت کار سلجوک بے رختر سے شادی ہوئی ہے۔ان کی بڑی بیٹی ایسریٰ کی نئی کابینہ میں توانائی کی وزارت کا قلم دان سنبھالنے والے بیرت البیراق سے شادی ہوئی ہے اور ان کے تین بچے ہیں۔

ترک صدر ماضی میں بھی خاندانی منصوبہ بندی ایسے موضوع پر اپنے خیالات کے ذریعے خواتین کے حقوق کی علمبرداروں کو نالاں کرتے رہے ہیں۔اس سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ ''ایک عورت ماں کی حیثیت سے سب سے بڑھ کر ہوتی ہے''۔

سنہ 2014ء میں انھوں نے برتھ کنٹرول کو ایک غداری قرار دیا تھا جس سے ان کے بہ قول ایک پوری نسل کے ناپید ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔وہ ماؤں پر زوردیتے رہتے ہیں کہ ان کے چار بچے ہونے چاہییں کیونکہ ان کے بہ قول:'' ایک بچے کا مطلب تنہائی ہے۔دو میں مخاصمت ہوتی ہے،تین سے توازن ہوتا ہے اور چار کا مطلب کافی ہے''۔

ترکی کے محکمہ شماریات کے مطابق گذشتہ سال ملک کی آبادی بڑھ کر سات کروڑ ستاسی لاکھ اکتالیس ہزار نفوس ہوچکی تھی جبکہ سنہ 2000ء میں ترکی کی آبادی چھے کروڑ اسّی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔