.

جنگل میں کھونے والا جاپانی بچہ 6 روز بعد زندہ مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی شخص کے لیے اس بات کا یقین کرنا کسی طور آسان نہیں کہ والدین اپنے بچے کو اس کی شرارت پر سزا کے طور پر کسی دور دراز جنگل میں پھینک دیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے کے روز 7 سالہ جاپانی بچے یاماتو تانوکا کے ساتھ حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔

گاڑیوں پر پتھر پھینکنے کی سزا کے طور پر یاماتو کے والدین نے اسے 6 روز قبل جزیرہ ہوکائیڈو جزیرے میں ایک جنگل کے قریب راستے پر مختصر وقت کے لیے کھانے پینے کی کسی چیز کے بغیر چھوڑ دیا۔ تاہم خیال ہے کہ بچہ چند منٹوں کے بعد چلتا ہوا جنگل میں کھو گیا۔

یاد رہے کہ یاماتو کو جس علاقے میں چھوڑا گیا تھا وہ بہت دور دراز ہے اور علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی وہاں جاتے ہیں۔

پہاڑ کے راستے اکیلا چلتا رہا

یاماتو اپنے غائب ہونے کے مقام سے تقریبا چار کلومیٹر دور ایک جاپانی فوجی اڈے کی عمارت کی جگہ چند فوجیوں کو مل گیا۔ ان اہل کاروں نے ریسکیو ٹیموں سے رابطہ کیا جو بدھ کے روز سے اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔

کوئی نہیں جانتا کہ یہ بچہ گھنے جنگلات کے علاقے میں تقریبا ہفتہ بھر تک زندگی کی بقاء کی جنگ کس طرح لڑتا رہا جب کہ رات میں درجہ حرارت 7 ڈگری تک ہوجاتا تھا اور اس کے علاوہ موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق یاماتو نے بتایا کہ "وہ پہاڑ کے راستے چلتا ہوا مذکورہ عمارت تک پہنچ گیا"۔

یاماتو نے سیکورٹی فورسز کو بتایا کہ وہ اکیلا جنگل میں چلتا رہا یہاں تک کہ اس تربیتی علاقے یا فوجی اڈے پہنچ گیا جہاں وہ ایک کمرے میں فرش پر سوتا ہوا پایا گیا تھا۔

ناقابل یقین حد تک پرسکون

بعد ازاں یاماتو کو ضروری چیک اپ کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ معائنہ کرنے والے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ بچہ ناقابل یقین حد تک پرسکون نظر آیا اور اس کے چہرے پر گھنے درختوں والے جنگل میں گزرے وقت کے حوالے سے خوف کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ ہی اس کے جسم پر کوئی زخم یا چوٹ کا نشان تھا اور جسم کے درجہ حرارت میں کمی کے سوا اس کی طبی حالت اچھی تھی۔

ادھر بچے کے والدین نے ابتدا میں پولیس کو بتایا کہ جنگل میں چند بوٹیاں جمع کرنے کے دوران یاماتو کھو گیا تھا۔ تاہم بعد میں وہ اپنے پہلے بیان سے پھر گئے اور اقرار کرلیا کہ انہوں نے خود یاماتو کو اس کی شرارتوں پر غصے کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں ایک سڑک پر چھوڑا تھا۔

یاماتو سے ملنے کے بعد اس کے والد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ " سب سے پہلے میں نے اس سے معذرت کی ہے کہ میری وجہ سے اسے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور ذہن میں بری یادیں رہ گئیں"۔