.

القدس فورس کے چمکتے ستارے ''حجازی اینڈ سن'' سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا آپ ایران کی پرپیچ سراغرساں قیادت اور اس کے کام کے بارے میں جانتے ہیں؟اگر نہیں تو ایک بااثر شخصیت کے بارے میں کچھ ہم بتائے دیتے ہیں۔ان سے ملیے،یہ حضرت علی اصغر حجازی ہیں۔وہ خود کو میڈیا سے ذرا دور ہی رکھتے ہیں، اس لیے مغرب میں وہ کوئی زیادہ جانی پہچانی شخصیت نہیں ہیں لیکن ایران کے مقتدر حلقوں میں وہ بہت طاقتور شخصیت ہیں۔

حجازی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کی سکیورٹی کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت میں انھیں ملک کی طاقتور ترین شخصیت تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔گذشتہ تین عشروں کے دوران وہ ایرانی انٹیلی جنس میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور اہم ذمے داریاں انجام دے چکے ہیں۔

علی حجازی کی کوششوں ہی کی بدولت مئی میں مشہور ومعروف سخت گیر عالم دین احمد جنتی شورائے نگہبان کے رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔یہی کونسل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کا انتخاب کرے گی۔

اٹھاسی ارکان پر مشتمل شورائے نگہبان کونسل نے احمد جنتی کو اپنا سربراہ منتخب کیا ہے۔اس طرح کونسل کو ایک مرتبہ پھر قدامت پسندوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور یوں ایران کے منتخب اداروں میں اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کی فروری میں منعقدہ عام انتخابات میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا توڑ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بہ انداز دیگر ایک طرح سے رجعت پسندوں اور جدت پسندوں میں ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

احمد جنتی کے انتخاب کو ہر کوئی حیرت سے دیکھ رہا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق وہ تو انتخاب جیتنے کی پوزیشن ہی میں نہیں تھے اور شکست سے دوچار ہونے والے تھے لیکن بڑے حجازی نے کرشمہ کر دکھایا۔ انھوں نے ایران کی مصالحتی کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی سے ملاقات کی اور یوں ان کی کامیابی کی راہ ہموار ہوگئی۔

ذرائع نے بتایا کہ پھر سجادی نامی ایک اور امیدوار کو انتخاب سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سے احمد جنتی کے کونسل کا رکن منتخب ہونے کا راستہ بالکل صاف ہوگیا۔ اس کے بعد وہ شورائے نگہبان ( ماہرین کی اسمبلی) کے صدر بھی ٹھہرے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ علی اصغر حجازی اپنے عہدے پر کام کرنے کے علاوہ ایرانی قیادت اور القدس فورس کی خفیہ کارروائیوں کے درمیان رابطہ کار کا بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

حجازی کے بچوں میں سے ایک محمد حسن حجازی بھی القدس فورس کے ایک خفیہ اہلکار ہیں ور وہ اس کی بیرون ملک خفیہ کارروائیوں کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔29 سالہ چھوٹے حجازی القدس فورس کی بیرون ملک سرگرمیوں کی نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے ذمے دار یونٹ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔گذشتہ چند سال کے دوران انھوں نے یورپ ،جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں خفیہ کارروائیوں کی قیادت کی ہے۔

محمد حسن حجازی کے مبینہ طور پر تہران کی دولت مند اشرافیہ سے تعلقات استوار ہیں اور وہ بیش قیمت کاریں خریدنے اور اچھے اچھے کھانے کھانے کے شائق ہیں۔وہ دارالحکومت میں اقتدار کی راہداریوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔تاہم وہ تہران کے ''مشہور امیر بچوں'' کی طرح سوشل میڈیا پر کوئی زیادہ سرگرم نہیں ہیں۔ان کے طبقے کے لوگ انھیں آغا زادے کے عرفی نام سے پکارتے ہیں۔

القدس فورس کے دوسرے اہلکاروں کی طرح محمد حسن مختلف عرفی نام استعمال کرتے رہتے ہیں اور انھوں نے بیرون ملک کارروائیاں انجام دینے کے لیے جعلی پاپسورٹس بنوا رکھے ہیں۔اگر ان کے والد اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو وہ اسی انداز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ چھوٹے حجازی بہت جلد القدس فورسز کے اہم عہدے پر فائز ہوسکتے ہیں اور اس طرح وہ سب سے بااثر شخصیت بن سکتے ہیں۔