.

سعودی عرب میں رمضان توپ کیوں خاموش ہوگئی؟

ماہ صیام سے وابستہ پرانی روایات دم توڑنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ صیام آتے ہی سعودی عرب میں ماہ مقدس سے وابستہ روحانی روایات بھی یک دم سے زندہ ہوجاتی تھیں مگراب آہستہ آہستہ ماہ صیام کی سعودی معاشرے میں پائی جانے والی تاریخی روحانی روایات بھی دم توڑ رہی ہیں۔ ان کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی اور لوگوں کی ترجیحات اور شوق تبدیل ہو رہے ہیں۔ آج بھی لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ماہ صیام کے ساتھ آنے والی وہ معاشرتی تبدیلیاں اور روحانی سکون و مسرت اورشادمانی پیدا کرنے والی رسومات، طور طریقے کہاں گئے جو کسی وقت ماہ صیام کا خاصہ ہوا کرتےتھے؟

ماضی میں ماہ صیام کے آتے ہی لوگ اپنے گھروں میں چراغاں کرتے اور ماہ مقدس کی آمد پر استقبالیہ جشن مناتے، گلیوں اور محلوں میں بھی فانوس روشن کیے جاتے، عید کے ایام میں گھروں کو خاص طورپر سجایا جاتا، بچوں کے لیے نئے کپڑوں کا اہتمام رمضان کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا۔ مگر اب یہ سب کچھ دور جدید کے مشاغل کی نظر ہوگیا ہے۔

سعودی عرب میں ثقافت وفنون آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین سلمان الفائز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ماہ مقدس کی روحانیات ایک ایک کرکے آنکھوں سے اوجھل ہو رہی ہیں۔ کہیں کچھ روایات زندہ ہیں تو وہ گھروں کے اندر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ورنہ پرانےدور میں سعودی معاشرے کا اجتماعی خاصہ ہوا کرتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کا لباس کے معاملے میں چلن تبدیل ہوگیا، ماہ صیام کی مجالس دم توڑ گئیں۔ پرانے دور میں لوگ گلیوں اور محلوں میں ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ جاتے اور ماہ صیام کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنایا کرتے۔ ہرشخص ماہ صیام کی روحانیت محسوس کرتا۔ آج ہمیں اس وقت پتا چلتا ہے جب ہم پہلا روزہ رکھ رہے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم بچپن میں ماہ صیام کے آتے کیا کرتے تھے ہمارے بچے ایسا نہیں سوچتے۔

الفائز نے ماہ صیام کی روحانی روایات کے دم توڑنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اب رمضان المبارک کی روحانی کیفیات پر سوشل میڈیا کا غلبہ ہے۔ اب عید اور رمضان کی آمد کی خوشی گھروں کے اندر تک محدود ہوگئی ہے جب کہ باہر بالکل ہو کا عالم ہے۔

روحانی روایات جوقصہ ماضی ہوگئیں

سعودی عرب میں ماہ صیام کی آمد کے ساتھ اجتماعی سطح پر کچھ ایسی روایات اپنائی جاتی تھیں جن سے ماہ صیام کے جلوہ فگن ہونے کا اندازہ ہوتا مگر اب وہ سرے سے یا تو موجود نہیں یا آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔

کسی دور میں سحری کے اوقات میں بیدار کرنے والے’مسحراتی‘ ہوا کرتے۔ کئی شہروں میں رمضان توپ ہوتی جس سے ماہ صیام کی آمد واختتام کا اعلان اس سے گولہ داغ کر کیاجاتا۔ اب صرف عید رہ گئی ہے۔

سلمان الفائز یاد دلاتے ہیں کہ جدہ، مدینہ منورہ، ینبع، مکہ مکرمہ اور طائف شہروں میں ماہ صیام کی روحانی کیفیات تازہ کرنے کے لیے تقریبات ہوا کرتی تھیں۔ لوگ کھلے میدانوں میں قیام اللیل کا اہتمام کرتے اور روزہ کی روحانیت کو اپنے اندر محسوس کرنے کی کوشش کرتے تھے۔