.

جدہ اور جبیل میں تارکین وطن کی آبادی سعودیوں سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی تجارتی شہر جدہ اور جبیل میں غیرملکی تارکین وطن روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں اور آبادی کے حالیہ تخمینوں کے مطابق ان دونوں شہروں میں تارکین وطن کی آبادی سعودی شہریوں سے بڑھ چکی ہے۔

سعودی عرب کے محکمہ شماریات کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ صوبہ الریاض میں واقع قصبے الغط میں تارکین وطن کی آبادی سعودیوں سے تھوڑی ہی کم رہ گئی ہے۔اس ذریعے نے آبادی سے متعلق ایک حالیہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی مملکت کی آبادی بڑھ کر تین کروڑ پندرہ لاکھ نفوس ہوگئی ہے۔ان میں دو کروڑ گیارہ لاکھ سعودی شہری ہیں اور وہ کل ملکی آبادی کا 67 فی صد ہیں جبکہ تارکین وطن کی تعداد ایک کروڑ چار لاکھ ہے اور وہ کل آبادی کا 33 فی صد ہیں۔

مشرقی صوبے میں واقع شہر جبیل میں تارکین وطن کی تعداد دو لاکھ 43 ہزار ہے جبکہ سعودیوں کی تعداد دو لاکھ پانچ ہزار ہے۔جدہ میں مقیم تارکین وطن کی تعداد 21 لاکھ 30 ہزار ہے اور سعودی شہریوں کی تعداد 19 لاکھ ہے۔الغط میں 88 سو سعودی مقیم ہیں جبکہ تارکین وطن کی تعداد 81 سو 58 ہے۔

ایثر فورم برائے سوشل اسٹڈیز اور ریسچ کے سربراہ محمد السباعی کا کہنا ہے کہ جدہ اور جبیل میں غیرملکی تارکین وطن کی مقامی شہریوں سے زیادہ آبادی کے شہری زندگی کے سماجی ،اقتصادی اور ثقافتی پہلوؤں پر منفی مضمرات ہوسکتے ہیں۔جبیل میں بعض تارکین وطن کمیونٹیوں کی ثقافت پہلے ہی غالب آچکی ہے اور یہ ان کے لباس اور کھانوں سے بھی عیاں ہے۔

انھوں نے تجویز پیش کی ہے کہ ''سعودی مملکت کو شہروں میں تارکین وطن کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک پروگرام بھی ویژن 2030 میں شامل کرنا چاہیے۔جدہ کے لوگوں کو بھی اپنی شناخت برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔اگر غیرملکی کلچر پر کوئی کنٹرول نہیں کیا جاتا تو اس شہر کے لوگوں کی شناخت مٹتی چلی جائے گی''۔