.

سعودی عرب : اجتماعی افطاریوں میں کھانے کا ضیاع ہورہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں رمضان المبارک کے دوران کم وبیش تمام چھوٹی بڑی مساجد میں افطاریوں کا بھرپور اہتمام ہوتا ہے اور مخیّر حضرات نمازمغرب سے قبل روزے داروں کے افطار کے لیے انواع واقسام کے کھانے لے کر آتے ہیں۔ان اجتماعی افطاریوں میں زیادہ تر کم آمدنی والے تارکین وطن ہوتے ہیں۔

بعض سعودی شہریوں کا خیال ہے کہ ان بڑی افطاریوں میں بہت زیادہ کھانا ضائع ہوجاتا ہے لیکن دوسرے لوگ اس رائے کو درست نہیں سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مزید اجتماعی افطاریوں کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

رمضان المبارک کے دوران افطاریوں پر خرچ ہونے والی کل رقوم کی مالیت کروڑوں اربوں ریال ہوسکتی ہے۔سعودی صحافی ایمن الغباوی کا کہنا ہے کہ افطار کے ایک کھانے کی کم سے کم لاگت 10 سعودی ریال ہوسکتی ہے۔اگر ایک شہر میں ان افطاریوں میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد قریباً ڈیڑھ لاکھ ہو تو ایک دن کے افطار کی مالیت پندرہ لاکھ ریال بنتی ہے اور اس شہر میں پورے مہینے میں افطاریوں کی لاگت ساڑھے چار کروڑ سعودی ریال ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح ہم بڑے شہروں میں افطاریوں کی لاگت کا تخمینہ لگا سکتے ہیں۔انھوں نے ان اجتماعی افطاریوں پر اٹھنے والی بے پایاں رقوم کو غریب اور نادار لوگوں کو دینے کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ہم ان لاکھوں ریال کو غریبوں کی امداد پر صرف کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ترجیحات کے تعیّن کی ضرورت ہے کہ کیا زیادہ اہم ہے تارکین وطن یا غریب اور بیمار لوگ۔ان لاکھوں ریال کو ناکارہ گردوں کے دائمی مریضوں کے علاج کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں یا بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو مالی امداد کر سکتے ہیں۔یہ رقوم سعودی عرب میں خیراتی اداروں یا دوسری تنظیموں کو دی جانی چاہیے نہ کہ باعزت روزگار کمانے والے تارکین وطن پر صرف کی جائے۔

ڈاکٹر عبدالرحمان الصبیحی نے الغباوی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض دولت مند لوگ اجتماعی افطاریوں پر بہت زیادہ رقوم صرف کرتے ہیں تاکہ وہ دوسروں کو بھی اپنی خیرات دکھلا سکیں۔انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس طرح کتنی خوراک ضائع چلی جاتی ہے اور انھیں ایسی افطاریوں کو منظم کرنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا ہے۔

انھوں نے کہا:''میں تارکین وطن کو مفت افطار کے کھانے دینے اور ان پر بھاری رقم خرچ کرنے کا مخالف ہوں۔اس رقم کو معاشرے کے غریب اور حاجت مند افراد کی مدد پر صرف کیا جاسکتا ہے یا سعودی نوجوانوں کو تربیت دی جاسکتی ہے تاکہ وہ آبرومندانہ روزگار حاصل کرسکیں''۔

ایک سعودی شہری محمد العبیدی نے افطار پر کھانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے ایک منفرد تجویز پیش کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے لیے اجتماعی افطاریوں کا اہتمام کرنے کے بجائے مخیّر حضرات ریستورانوں کے کوپن جاری کریں اور ضرورت مند تارکین وطن ان کو دکھا کر ریستورانوں میں کھانا کھا سکیں۔اس طرح افطاریوں میں کھانے کے ضیاع سے بھی بچا جاسکے گا۔

ارفع مقصد

الریاض میں محکمہ دعوۃ وارشاد کے ڈائریکٹر شعبہ تعلقات عامہ مشاری الدوسری اجتماعی افطاریوں کا ایک اور ارفع مقصد بیان کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نماز مغرب سے قبل مسلمان روزے کی افطاری کے لیے مل بیٹھتے ہیں اور اس طرح ان کی مدد بھی ہوجاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان افطاریوں میں بہت سے غیرمسلم بھی شرکت کرتے ہیں اور اس طرح وہ رمضان کے روحانی ماحول سے مستفید ہوتے ہیں۔ان میں سے بہت سوں نے بعد میں اسلام بھی قبول کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''لوگ اجتماعی افطاریوں پر گرانقدر رقوم صرف کرتے ہیں۔اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔وہ یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو کوئی مسلمان روزے دار کا روزہ افطار کرائے گا تو اس کو روزے دار جتنا ثواب ملے گا اور اس کے ثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی''۔

الدوسری کا کہنا تھا کہ ''افطار کے کھانوں پر صرف ہونے والی رقوم مارکیٹ میں آتی ہیں۔اس طرح دولت گردش میں آتی ہے کیونکہ کھانے سعودی کمپنیوں ہی سے خرید کیے جاتے ہیں۔پھر اس سے صرف تارکین وطن ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔مزید برآں لوگوں کو اپنی رقوم کو کسی بھی طریقے سے عطیہ کرنے کی آزادی حاصل ہے اور حکومت کے ایسے ادارے موجود ہیں جو معاشرے کے نادار اور غریب افراد کی مدد کرتے ہیں''۔