امریکی طالبہ کا عرب خانہ بدوشوں کے طریقے پر"شادی کا تجربہ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لِلی نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ ایک روز اس کی شادی مشرقی طریقے پر ہوگی۔ وہ جتنا اس منفرد تجربے سے دوچار ہونے کی چاہت رکھتی تھی ، حقیقت بن جانے پر وہ اتنا ہی حیران تھی۔

لِلی کو جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ رشتہ طلب کیے جانے سے لے کر آگے تک شادی کے رسم و رواج تھے۔ بالخصوص عقد نکاح سے قبل دلہن کی مشاورت ، لِلی کو یہ معلوم نہ تھا کہ مشرقی لڑکی کی اپنی رائے رکھتی ہے اور شادی اس کی آمادگی کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔

دیہی علاقوں کا شادی کا لباس ، مہندی اور بعض دیگر رواج.. یہ تمام چیزیں لِلی کے امریکا سے تعلق رکھنے والے تمام 16 ہم وطنوں کے لیے بہت عجیب اور دلچسپ تھیں جو نئے تجربات سے گزرنے ارو عربی زبان سیکھنے کے مقصد سے آئے تھے اور اس سفر کی ابتدا انہوں نے اردن سے کی۔

امریکا کی ٹینیسی یونی ورسٹی سے آنے والی لِلی کا کہنا ہے کہ عرب ثقافت کا جاننا ، عربی زبان سیکھنا اور شہر سے باہر دور دراز میدانی علاقوں کے رسم و رواج کا مشاہدہ کرنا یہ سب تمام امور اس کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

چارلی اور لِلی کی شادی میں شرکت طلبہ کے لیے ایک نیا اور مختلف تجربہ تھا جس سے وہ پہلی مرتبہ گزرے۔

چارلی نے اس خوش گوار تجربے کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "شادی کی تقریب شان دار تھی اور یہ ہمارے ملک میں شادی کے رواج سے مختلف ہے۔ مجھے یہاں کے رسم و رواج اور عربی زبان بھی پسند آئے"۔

امریکا میں جامعات اور تعلیمی ادارے عربی زبان سیکھنے اور مشرقی ثقافت جاننے کے لیے اپنے طلبہ کو اسکالر شپ پر مشرق وسطی بھیجنے پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی ادارہ"SIT" بھی ان ہی تعلیمی پلیٹ فارموں میں سے ایک ہے جن کا مقصد اپنے طلبہ کو عربی زبان اس کی جائے پیدائش میں بھیج کر سکھانا ہے۔

اس حوالے سے "SIT" میں عربی زبان کے تعلیمی پروگرام کے اکیڈمک ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر حمد کا کہنا ہے کہ یہ طلبہ پہلے درجے میں عربی زبان اور عرب ثقافت سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ ثقافت زبان کا حصہ ہے اور زبان ثقافت کا حصہ ہے۔

اردن کے جنوب میں کھلے میدانی علاقے (بادیہ) میں اذرح نامی گاؤں میں ابو باسل نامی مقامی اردنی نے طلبہ کا استقبال کیا۔ اس موقع پر تمام مرد طلبہ نے بادیہ کا لباس زیب تن کیا جس میں سر کو ڈھانپنے کا مشہور رومال " الشّماغ" بھی تھا جس کا رنگ سُرخ اور سفید ہوتا ہے۔ طلبہ نے لمبے عربی کرتے پر بہشت بھی پہن رکھی تھی۔ طالبات نے "المدرقة" (میکسی) پہن کر ساتھ میں سر کو ڈھانپا ہوا تھا۔

امریکی طلبہ نے پورے دو روز بادیہ کے ماحول میں گزارے اور اس دوران اپنے لحاظ سے منفرد اور غیرمانوس تجربات سے لطف اندوز ہوئے جن میں بالخصوص رمضان المبارک سے متعلق خصوصی رواج شامل ہیں۔ طلبہ اور مقامی میزبانوں کے درمیان بات چیت کی بنیاد عربی زبان تھی اگرچہ اکثر اوقات بات چیت محض اشاروں کی زبان تک محدود رہتی تھی۔

ابو باسل نے بوسٹن سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی نوجوان کا قصہ بھی سنایا جو بادیہ کو جاننے کے لیے آیا تھا اور اس نے ابو باسل کے گھر ہی قیام کیا۔ اس طالب علم نے واپس اپنے ملک جا کر ایک بڑی سرکاری تقریب میں بادیہ کا لباس پہن کر شرکت کی۔ اس طرح مذکورہ نوجوان نے عرب ثقافت کی واضح تصویر اپنے ملک منتقل کی۔

ریاست کولوراڈو سے آنے والی امریکی طالبہ ریچل کا کہنا ہے کہ "مجھے عربی زبان سے بہت محبت ہے مگر یہ مشکل ہے۔ میں سے جلد از جلد سیکھنے کی کوشش کررہی ہوں۔ عربی زبان کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس کی کثیر الجہت ثقافت کو بھی جاننا چاہیے"۔

عرب ممالک کے اس طرح کے دورے یہاں کی ثقافت اور ان ممالک کی حقیقی تصویر جاننے کے واسطے بہترین ترجمان کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک طالبہ ٹیلر نے تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتی ہے جہاں عرب اور مسلمانوں کے بارے میں کافی جان کاری نہیں ہے۔ ٹیلر کے مطابق اس نے اردن میں بالخصوص بادیہ میں جو کچھ قریب سے دیکھا اس کی امریکی معاشرے میں بالکل مختلف تصویر پائی جاتی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ "یہاں زندگی شان دار اور پر امن ہے اور عرب دنیا کی تصویر روشن ہے۔ ہم یہاں مغربی اور مشرقی معاشرے کے درمیان پُل کی تعمیر کے لیے آئے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں