.

افطاری میں مصروف روزہ داروں کو کس نے ڈرایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں امن و آشتی کی علامت شہر نبوت کی شان مسجد نبوی سوموار کے روز شام کے مقامی وقت سات بج کر بیس منٹ پر زوردار دھماکے سے لرز اٹھی، جس سے حرم مسجد نبوی میں افطار کرتے روزداروں کے دل تیز تیز دھڑکنے لگے۔

حرم نبوی کے مختلف حصوں میں مانیٹرنگ اور براہ راہ نشریات پیش کرنے کیمروں میں ایک مخصوص زاویے میں نصب کیمرے نے اس خوف اور حیرت سے عبارت اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔

دھماکے کی زوردار آواز سنتے ہی افطار کرتے روزہ دار ایک لمحے کو کھانا پینا بھول گئے اور دھماکوں کی سمت سے دیکھنے لگے اور باہمی سرگوشیوں میں اس کی نوعیت کے بارے میں زیر لب سوال کرنے لگے۔ جس لمحے دھماکا ہوا، اس وقت براہ راست مناظر کے پس منظر میں کمنٹری کرنے والے عالم دین کہہ رہے تھے کہ "رمضان المبارک کی ہر شب جنہم کی آگ سے نجات دلوانے والی ہوتی ہے۔ یہ مہینہ نیکیوں اور احسانات کا مہینہ ہے۔"

سعودی چینل کے توسط سے نشر ہونے والی اس ویڈیو کو بعد میں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مقبولیت ملی جسے شیئر کرنے والوں نے نبی آخر الزمان کی قبر مبارک کے پڑوس میں رمضان کی مبارک ساعتوں میں اس دہشت گردی کے اقدام میں شدید مذمت کی۔

اسلامی اور عرب ملکوں کے سربراہاں اور صدور کی جانب سے سعودی ایمرجنسی سروس کے چار اہلکاروں کی جان لینے والے اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق اس دھماکے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔