سعودی مبلغ کا فرشتہ جبریل سے مصافحہ کا متنازع دعوی

گورنر عسیر شہزادہ فیصل بن خالد نے متنازع بیان کی تحقیقات کا حکم دیے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے ایک سرکردہ عالم دین کی جانب سے حضرت جبریل علیہ السلام پر درود وسلام بھیجنے اور لیلۃ القدر کے انتیس رمضان المبارک کو ہونے سے متعلق متنازع بیان پر ملک کے مذہبی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عیسر کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد نے خمیس مشیط گورنری کی جامع مسجد الکبیر کے امام وخطیب الشیخ احمد الحواشی کے متنازع بیان کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ شہزادہ فیصل بن خالد نے عسیر کی افتاء کونسل کے رکن ڈاکٹر سعد الحجری اور عسیر کے ڈائریکٹر مذہبی امور ڈاکٹر حجر المعاری پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے الشیخ الحواشی سے ملاقات کرکے 29 رمضان المبارک کی شب لیلۃ القدر اور حضرت جبریل علیہ السلام کی روئیت کی بابت سوال جواب کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق الشیخ الحواشی کے بیان پر ان سے بحث سمیٹتے ہوئے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ’لیلۃ القدر‘ کے بارے میں کتاب وسنت سے ماخوذ متفق علیہ موقف ہی کو حتمی سمجھا جائے گا۔ وہ یہ کہ لیلۃ القدر ماہ صیام کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں گردش کرتی ہے اور وہ کسی ایک شب کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ خوابوں اور ذاتی اجتہاد کی بناء پر لیلۃ القدر کو کسی ایک شب کے ساتھ خاص نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جبریل علیہ السلام پر درود وسلام کے باب میں بھی حدیث نبوی پرعمل کیا جائے گا۔ اس ضمن میں اللہ کے رسول کا وہ فرمان قابل ذکر ہے جس میں آپ ایک شب صحابہ کرام کی محفل میں آئے تو انہیں یہ کہتے سنا ’’جبریل اور مکائیل پر درود وسلام ہو‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ہدایت کی کہ وہ ’السلام علی جبریل و میکائیل‘ کے بجائے ’’السلام علینا و علیٰ عباد اللہ الصالحین‘‘ کہیں۔

الشیخ الحواشی نے مذکورہ دلائل تسلیم کیے ہیں اور وعدہ کیا ہے کہ آئندہ اس نوعیت کا متنازع بیان جاری نہیں کریں گے۔

الشیخ الحواشی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے جبریل علیہ السلام اور دیگر ملائکہ پر سلام بھیجنے کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے جبریل یا کسی دوسرے فرشتے کو دیکھا، ان سے مصافحہ کیا یا فرشتوں میں سے کسی ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ فرشتوں پر درود وسلام بھیجنا شرعا جائز ہے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام نے حضرت جبریل پر سلام بھیجا تھا۔
سعودی عالم دین نے حدیث جبریل کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’حضرت جبریل صحابہ کرام کی مجلس میں سفید لباس میں نازل ہوئے۔ آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ جبریل ہیں جو تمہیں دین سکھانے آئے ہیں‘‘۔ اسی طرح غزہ بدر کے روز بھی حضرت جبریل صحابہ کے سامنے آئے۔ اس سے قبل وہ حضرت مریم علیھا السلام کو بھی دیدار کرا چکے ہیں جس کا قرآن میں بھی ذکر موجود ہے۔ اس لیے فرشتوں کو سلام کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

جہاں تک لیلۃ القدر کا معاملہ ہے تواس حوالے سے علماء سلف کا موقف یہی رہا ہے کہ یہ کسی ایک شب کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ مختلف روایات میں لیلۃ القدر کی مختلف راتوں میں ظہور کا ذکر ملتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب اللہ اپنے کسی بندے پر احسان کرتا ہے تو اسے کسی شب لیلۃ القدر کے بابرکت مظاہر دکھاتا ہے۔ وہ شخص چاہے تو کسی بھی مسلمان بھائی کو اس کے بارے میں بتا سکتا ہے یا اپنی دعا میں اس کی طرف اشارہ کرسکتا ہے۔ جو شخص کوشش کرکے لیلۃ القدر کو تلاش کرتا ہے تو اس کے لیے اجر عظیم ہے۔

الشیخ الحواشی کی جانب سے لیلۃ القدر اور فرشتوں کے دیداریا ان پر سلان بھیجنے کے متنازع بیان پر سخت تنقید کی بھی کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی مرکزی افتاء کونسل کے رکن الشیخ صالح الفوزان کا کہنا ہے کہ الشیخ احمد الحواشی نے لیلۃ القدر کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ درست نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو ماہ صیام کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں پوشیدہ رکھا ہے اور اس کی تلاش مسلمان بندوں پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ کوشش کرکے اسے تلاش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں