انڈونیشیا میں موبائل مساجد متعارف

گھروں اور دفاتر سے مساجد کی دوری کا انوکھا حل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سڑکوں پرغیرمعمولی رش، بے ہنگم ٹریفک اور مساجد کی گھروں اور دفاتر سے دوری عموما نماز با جماعت میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہے، مگر انڈونیشیا کے مسلمانوں نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے موبائل مساجد کو متبادل حل کے طورپر پیش کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دور حاضر کی مصروفیات کے تناظر میں انڈونیشیا کے شہریوں کی جانب سے موبائل مساجد تیات کی گئی ہیں جنہیں دارالحکومت جکارتا میں نمازیوں کی خدمت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ چلتی پھرتی مساجد کو کسی بھی جگہ گاڑی کی طرح پارک کرکے نماز کے اوقات میں وہاں نہ صرف با جماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ موبائل مساجد میں وضو کی سہولت موجود ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج میں جکارتا کی موبائل مساجد کو دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’وان‘‘ نامی گاڑی کو موبائل مساجد میں ڈھالا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں موبائل مساجد کے تصور کوغیرمعمولی سطح پر سراہا گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ موبائل مساجد سے مستقل مساجد کے کردار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جو لوگ بروقت مساجد میں نماز کے لیے نہیں پہنچ پاتے انہیں موبائل مسجد میں نماز کی ادائی کی سہولت مل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں