انسانی اعضاء سے مشابہت رکھنے والی 12 غذائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غذا سے متعلق اکثر جدید طبی تحقیقات سے امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ 12 قسم کے پھل اور سبزیاں انسانی جسم کو عام طور پر پھیلے امراض سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پھل اور سبزیاں اپنی شکل میں انسانی جسم کے ان اعضاء سے مشابہت رکھتے ہیں جن سے متعلق امراض میں ان کا استعمال فائدہ دیتا ہے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ان 12 پھل اور سبزیوں کا انسانی جسم کے نظام سے تعلق بتایا گیا ہے۔

گاجر کو کاٹا جائے تو یہ اندر سے انسانی آنکھ کی پُتلی سے سے مشابہت رکھتی ہے۔ طبی تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ گاجر کھانے سے آنکھ کو خون کی روانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وٹامن اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے علاوہ گاجر میں بیٹا کیروٹین بھی پایا جاتا ہے۔ یہ آنکھ کو سفیدی چشم سے محفوظ رکھتا ہے جو عمر رسیدہ افراد میں بینائی کے ختم ہونے کا بنیادی سبب ہوتا ہے۔

اخروٹ کی گری انسانی دماغ کے مشابہہ ہوتی ہے۔ سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اخروٹ میں بڑی مقدار میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں جو دماغ کو کام کرنے میں مدد دینے کے علاوہ الزائمر کے مرض سے حفاظت کرتے ہیں۔

کرفس کے ڈنٹھل انسانی پنڈلی کی ہڈی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے کو غذا فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے کیوں کہ اس میں 23% سوڈیئم پایا جاتا ہے جب کہ انسانی ہڈی میں بھی سوڈیئم کی اتنی ہی مقدار پائی جاتی ہے۔ کرفس بڑی مقدار میں سیلیکون پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔

یہ دونوں پھل انسانی پستان سے مشابہہ ہوتے ہیں۔ تحقیقات سے اس امر کی تصدیق ہوچکی ہے کہ چکوترے میں limonoids نامی مواد پایا جاتا ہے جوانسانی پستان میں نقصان دہ خلیوں کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔ موسمی اور چکوترا دونوں انسانی پستان کو لمفوسائٹ کے خطرات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

شکرقندی اپنی شکل میں انسانی پِتّے سے مشابہت رکھتی ہے اور یہ پتے کو صحت مند طور پر کام کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس میں بیٹا کیروٹین کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو کہ اینٹی آکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے انسانی جسم میں خلیوں کے مجموعوں کو سرطان اور بڑی عمر کی وجہ سے نقصان پہنچنے سے بچاتے ہیں۔

ٹماٹر انسانی دل سے مشابہت رکھتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹماٹر کو کاٹا جائے تو وہ اندر سے انسانی دل کے حصوں کی مانند نظر آتا ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ ٹماٹر کو صحت بخش چربی کے ساتھ ملایا جائے مثلا زیتون کا تیل یا ناشپاتی.. تو یہ انسانی جسم میں لیکوپن کو جذب کرنے کی صلاحیت میں 10گنا اضافہ کردیتا ہے۔ لیکوپن ایک کیمیائی مادہ ہے جو دل کے امراض کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

سرخ شراب کو کشید کر کے شیشے کے گلاس میں ڈالا جائے تو وہ انسانی خون سے ملتی جلتی نظر آتی ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور پولی فینلز سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم میں خلیوں کو ختم ہونے اور خون کو جمنے سے روکتے ہیں۔

کیلا اپنے خم کی صورت میں انسانی مسکراہٹ سے ملتا ہے۔ سائنسی طور پر یہ ثابت ہوا ہے کہ کیلے میں موجود پروٹین ہاضمے کے بعد ایک کیمیائی مادے serotonin میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ serotonin دماغ کے اندر انسانی موڈ کو خوش گوار بنانے والا اہم ترین کیمیائی مادہ ہے۔

ناشپاتی اپنی شکل میں انسانی رحم سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ فولک ایسڈ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جو انسانی رحم کو سرطان کے خلیوں سے متاثر ہونے کے خطرے پر روک لگاتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ اگر ہفتے میں ایک مرتبہ ناشپاتی کھا لی جائے تو اس سے عورتوں میں ہارمون کا توازن برقرار رہنے کے علاوہ ، ولادت کے موقع پر وزن کے بڑھنے اور رحم کے سرطان سے تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس پھل کو بیج سے لے کر پوری طرح پک کر تیار ہونے میں پورے نو ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔

انگور کا گچھا اندر سے انسانی پھیپھڑوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ انگور کھانے سے پھیپھڑوں کے سرطان اور ان کے پھول جانے کے خطرے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ انگور کے بیج میں proanthocyanidin نامی ایک کیمیائی مادہ پایا جاتا ہے جو الرجی کی وجہ سے ہونے والے دمے کی شدت کو بڑی حد تک کم کرتا ہے۔

ادرک اپنی شکل میں انسانی معدے سے ملتا جلتا ہے۔ اس کا ایک سب سے بڑا فائدہ ہاضمے کے عمل میں مدد دینا اور متلی میں افاقہ ہے۔

کھمبی انسانی کان کے مشابہہ ہوتی ہے۔ یہ ان چند غذاؤں میں سے ہے جن میں وٹامن D پایا جاتا ہے اور اس سے سماعت بہتر ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں