.

بارہ سال مصری دلہا 10 سالہ دلہن بیاہ لایا

کم سن بچوں کی شادی ’پیسے بٹورنے کا حربہ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف فن کار محمد سعد کی فلم’ اللمبی‘ میں انہوں نے لوگوں سے سلامی کی شکل میں پیسے جمع کرنے کی فنکاری کی تھی مگر مصر کے ایک عام شہری نے اپنے بارہ سالہ بیٹے کی دس سالہ بچی کے ساتھ شادی رچا کر نہ صرف کم سن دلہا دلہن کی شادی کا نیا ریکارڈ قائم کیا بلکہ سلامی کی شکل میں پیسے جمع کرنے کا حربہ آزمایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر میں شادی بیاہ کے مواقع جہاں وسیع پیمانے پر اخراجات کا موجب بنتے ہیں وہیں لوگ شادیوں کے موقع پر دوست احباب سے ’النقوط‘ یعنی سلامی اور تحائف کی شکل میں اچھی خاصی رقم بھی بٹور لیتے ہیں۔ کم سن دلہا کے والد کے ذہن میں بھی یہ خبط سوار ہوا کہ وہ بارہ سالہ لڑکے کی شادی کراکے احباب سے خوب ’النقوط‘ حاصل کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق الدقھلیہ گورنری کے بلقاس شہر میں المعصرہ کے مقام پر یہ منفرد شادی انجام پائی۔ دلہا کے والد سعید عبدالعزیز نے اپنے 12 سالہ بیٹے فارس عزیز کی شادی ایک 10 سالہ بچی نینسی کے ساتھ کرائی۔ ننھے دلہا دلہن کی شادی کی تقریب میں اہل علاقہ اور دوسرے قصبوں کے مردوخواتین کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔ اطلاعات ہیں کہ دلہا کے والد نے اس موقع پرخوب ’نقوط‘ جمع کیے ہیں۔

خیال رہے کہ مصر میں ’’النقوط‘‘ اس رقم یا تحفے کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر دلہا اور دلہن کو دیے جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے شادی کے شرکاء سے بات کی تو انہوں نے جمع ہونے والے نقوط کے بارے میں کچھ بتانے ے گریز کیا۔ البتہ اکثریت شہریوں کا کہنا تھا کہ سعید عبدالعزیز نے بیٹے کی شادی رچار کر خوب پیسے بٹورے ہیں۔ بعض کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ دلہا کے والد اس طریقے سے کوئی دوسرا پروگرام شروع کرنا چاہتے ہوں۔

بعض شہریوں نے کم سن بچوں کی شادی کی تقریب پر ان کے والدین کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ایک تو ان لوگوں نے بچوں کی شادی کرادی، اس پرمزید یہ کہ شادی کے موقع پر موسیقاروں اور ڈائسروں کی بڑی تعداد کو مدعو کرکے اسے ایک عیش و نشاط کی تقریب بنا دیا تھا۔

دلہا کے والد سے اس بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے تو بات ہی کرنے سے انکار کردیا۔ سعید عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ یہ ان کا ذاتی اورنجی معاملہ ہے جس پرکسی کو کوئی بات کرنے یا انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

البتہ شادی سے قبل انہوں نے ایک مقامی مصری اخبار کو بتایا تھا کہ وہ فقط نکاح کی تقریب منعقد کررہے ہیں۔ رخصتی بعد میں ہوگی، تاہم ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ شادی کوئی چھوٹی موٹی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ باقاعدہ شادی نکاح اور رخصتی کی تقریب تھی جس میں تمام رسوم و رواج پورے کئے گئے۔ دلہن کا تعلق ایک دوسرے گاؤں سے ہے جس کی بارات بڑے دھوم دھام کے ساتھ لے جائی گئی۔ لڑکے والوں نے 200 مربع میٹر پر ایک کھلے میدان میں مہمانوں کی تواضع کی۔