فرانس : چرچ میں حملہ آوروں کے نن سے اسلام پر کیا سوال وجواب ہوئے؟

'' شام پر فضائی بمباری جاری رہتی ہے ،تو ہم بھی اپنے حملے جاری رکھیں گے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس میں گذشتہ ہفتے ایک چرچ پر حملہ کرنے والے نوجوان دہشت گرد پادری کو انتہائی سفاکی سے قتل کرنے کے بعد وہاں ایک نن سے اسلام اور قرآن کے بارے میں سوال وجواب کرتے رہے تھے۔ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ''امن'' کے لیے ہی کررہے ہیں۔

ان دونوں نے فرانس کے علاقے نارمنڈی میں واقع قصبے سینیٹ ایتین ڈو روورے میں ایجلیس سینٹ ایتین چرچ پر 26 جولائی کو دھاوا بولا تھا۔انھوں نے پانچ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور ان میں سے ضعیف العمر پادری فادر ژاک حمل کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے ذبح کردیا تھا۔اس تمام منظر کو دو یرغمال ننوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ دونوں حملہ آور جارح اور نروس لگ رہے تھے۔

ایک نن سسٹر ہوگیویٹے پیرون نے کیتھولک اخبار لا وائی کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ''میں نے دوسرے آدمی کو مسکراتے ہوئے دیکھا لیکن یہ کوئی فتح کی مسکراہٹ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی نرم مسکراہٹ تھی جو خوش ہوتا ہے''۔

ان دونوں حملہ آوروں کی عمریں انیس،انیس سال تھیں۔ان کے نام عبدالمالک پتیتژین اور عادل کریمشی تھے۔انھوں نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی بیعت کررکھی تھی۔دونوں چرچ میں پولیس کی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

انھوں نے صبح کی دعائیہ تقریب کے دوران چرچ پر حملہ کیا تھا اور لوگوں کو یرغمال بنایا تھا۔اس دوران ایک نن وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور اس نے پولیس کو واقعے کے بارے میں اطلاع دی تھی۔تب حملہ آور پادری کو قتل اور ایک اور یرغمالی کو شدید زخمی کرچکے تھے۔

اس وقت وہ چرچ میں دو ننوں سسٹر ہوگویٹے اور سسٹر ہیلین ڈی کاکس کو یرغمال بنانے کے بعد ان کے پاس ہی موجود تھے۔ان دونوں کی عمریں اسّی سال سے زیادہ تھیں۔ایک مرحلے پر جب سسٹر ہیلین تھک گئیں تو ان سے کہا گیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔انھوں نے بتایا کہ ''میں نے اپنی چھڑی کے بارے میں کہا تو ایک حملہ آور نے مجھے وہ پکڑا دی''۔

اس کے بعد اس نے مذہب کے بارے میں گفتگو شروع کردی اور نن سے پوچھا کہ کیا وہ قرآن کے بارے میں کچھ جانتی ہیں؟

سسٹر ہیلین نے اس کا یہ جواب دیا:'' جی ہاں ،میں اس کا بالکل اسی طرح احترام کرتی ہوں جس طرح میں بائبل کا احترام کرتی ہوں۔میں نے بہت سے سورتیں پڑھ رکھی ہیں اور جن سورتوں نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا وہ امن سے متعلق تھیں''۔

اس کے جواب میں ایک حملہ آور نے کہا:'' امن ،یہی تو ہم چاہتے ہیں لیکن جب تک شام پر فضائی بمباری جاری رہتی ہے ،ہم اپنے حملے جاری رکھیں گے اور یہ ہر روز ہوتا رہے گا۔جب آپ حملے روک دیں گے ،ہم بھی روک دیں گے''۔

کریمشی کے ہمسایوں اور جاننے والوں نے بتایا ہے کہ وہ شام جانا چاہتا تھا۔شام میں امریکا کی قیادت میں اتحاد اور روس کے لڑاکا طیارے داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔فرانس بھی شام میں داعش مخالف فضائی مہم میں شریک ہے۔

ایک حملہ آور نے نن سے پوچھا:''کیا آپ مرنے سے خوف زدہ ہیں''۔نہیں۔ نن نے جواب دیا۔ اس نے کہا :''کیوں؟''

''میں اللہ پہ یقین رکھتی ہوں اور میں جانتی ہوں کہ میں مرنے کے بعد خوش ہوں گی''۔سسٹر ہیلین نے جواب دیا۔اس وقت وہ خاموشی سے دعائیں بھی کررہی تھیں۔

پھر انھوں نے اللہ کے بارے میں گفتگو شروع کردی۔''حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں ہوسکتے ۔وہ آدمی ہیں۔یہ آپ لوگ ہیں جنھوں نے انھیں خدا بنا دیا اور آپ غلط ہیں''۔ان میں سے ایک نے کہا۔

''شاید ایسا ہی ہو۔ لیکن بہت بُرا''۔سسٹر ہوگویٹے نے جواب دیا۔اس مرحلے پر وہ اپنی موت کی تیاری کرنے لگ گئی تھیں اور وہ نہیں جانتی تھیں کہ آیندہ چند لمحوں کے بعد کیا ہونے جارہا ہے۔''یہ سوچ کر کہ میں مرنے والی ہوں۔میں نے اپنی زندگی اللہ کے سپرد کردی تھی''۔انھوں نے بتایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں