لپ اسٹک کے بارے میں وہ معلومات جو آپ نہیں جانتے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ہر سال 29 جولائی کو لپ اسٹک کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاہم آپ نے کبھی ہونٹوں کو سجانے والی اس آرائشی چیز کی تاریخ کے بارے میں سوچا جس سے کسی خاتون کا بیگ خالی نہیں ہوتا۔

لپ اسٹک کی تاریخ تقریبا 5000 سال قبل دو دریاؤں دجلہ اور فرات کے درمیان واقع علاقے سے وابستہ ہے۔ اس زمانے میں خواتین قیمتی پتھروں کو پیس کر ایسا سفوف حاصل کرتی تھیں جس سے اپنے ہونٹوں کو رنگین بناسکیں۔ قدیم مصریوں نے گہرے سُرخ رنگ کی لپ اسٹک نکالی جو سمندری جڑی بوٹیوں ، آئیوڈین اور برومن سے تیار کی جاتی تھی۔ مصر کی ملکہ قلوپطرہ اس کو سنگھار میں استعمال کرتی تھی۔

ایک ہزار عیسوی کے آغاز پر اندلس کے سائنس داں ابوالقاسم الزہراوی نے پہلی ٹھوس لپ اسٹک تیار کی۔ سولہویں صدی عیسوی میں برطانیہ میں لپ اسٹک کا استعمال شروع ہوا جہاں اس کو شہد کے چھتے کے موم سے تیار کیا جاتا تھا۔

دوسری عالمی جنگ عظیم کے دوران اُن خواتین میں لپ اسٹک کا استعمال پھیل گیا جو سینیما کی اداکاراؤں سے مشابہت اختیار کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ خواتین کی جانب سے بناؤ سنگھار میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ضرورت بن گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں