.

اوباما کی آبائی ریاست میں آتش فشاں کی ہنستی مسکراتی آگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں گذشتہ ایک ہفتے سے صدر باراک اوباما کی آبائی ریاست ہوائی میں سنہ 1983ء کے بعد کا پانچواں بڑا آتش فشاں لاوا اگل رہا ہے۔ اس آتش فشاں کو Kilauea کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عمل ماضی کے تمام لاوا اگلنے والے واقعات سے بعض حوالوں سے منفرد اور عجیب وغریب ہے۔ بعض مقامات پر اس آتش فشاں کی سطح سمندر سے بلندی 3000 میٹر تک چلی جاتی ہے اور اس نے ریاست ہوائی کا قریبا 14 فیصد علاقہ اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اگلے پانچ ماہ بعد عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر باراک اوباما کی آبائی ریاست میں جاری تازہ آتش فشاں انقلاب سیاحوں اور دیگر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس آتش فشانی کے دوران معمول کے مطابق لاوا زمین سے باہر نکل رہا ہے مگر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے لی گئی تصاویر میں اس کی عجیب وغریب شکلیں دیکھی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ حیران کن تصویر میں لاوے کی آگ کو ایک ہنسے مسکراتے چہرے کی شکل میں دیکھا گیا۔ بعض لوگوں نے طنزیہ پیرائے میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ آتش فشاں بھی صدر باراک اوباما کو ان کی 55 ویں سالگرہ پر مسکرا کر مبارک باد پیش کر رہی ہے۔

کیلاویا نامی آتش فشاں اپنے جلو میں بڑی بڑی تحریکوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ یہ آتش فشان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پوری دنیا تبدیلی اور انقلابات کے تھپبیڑوں کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکا میں ارضیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے ارضیاتی سروے کے مطابق اس سے قبل سنہ 1920ء میں ریاست ہوائی میں اٹھنے والا آتش فشاں 20 کلومیٹر ہوا میں بلندی تک جا پہنچا تھا۔ USGS کی رپورٹ کے مطابق ایک صدی قبل کا آتش فشاں پیسیفک سمندر تک جا پہنچا تھا۔

کیلاویا آتش فشاں کی خاص بات اس کی آگ کی ہنستی مسکراتی شکلیں ہیں۔ امریکی ہوا باز مائک کابلر نے آتش فشاں آگ اور ابلتے لاوے کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھتے ہوئے معروف عرب شاعر ابو طیب المتنبی کا ایک شعر بھی یاد آ رہا ہے۔ ابو طیب نے تو کہا تھا کہ اگرآپ شیر کے کھلے جبڑوں کو دیکھ لیں تو یہ گمان مت کرنا کہ وہ مسکرا رہا ہے۔

اگر المتنبی آج زندہ ہوتے اور اس آتش فشاں کو دیکھتے تو وہ یوں کہتے ’اگر کوئی آتش فشاں لاوے کو دیکھ لے تو یہ گمان مت کرے کہ لاوا مسکرا رہا ہے۔"

آتش فشاں مادے کی عجیب و غریب شکلوں کو توہم پرست لوگ اپنے مخصوص انداز میں دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے اپنے من پسند مفاہیم اخذ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔