بینکوں میں عنقریب پاس ورڈ کی جگہ وائس ٹیگ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا بھر میں بڑی عالمی بینک جلد ہی پاس ورڈز اور خفیہ نمبروں سے چھٹکارہ حاصل کر کے ان کے بدلے "وائس ٹیگ" ک استعمال کریں گے جو فنگر پرنٹ سے بھی زیادہ بہتر آپشن نظر آتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئی ٹکنالوجی کو کام میں لایا جارہا ہے جو انسانی آواز میں فرق محسوس کر کے ہر آ واز کے لیے ایک ٹیگ متعین کردیتی ہے جو کسی بھی دوسرے شخص کی آواز کے ساتھ نہیں دُہرائی جاتی۔

برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کے مطابق برکلے بینک جو برطانیہ اور یورپ کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ہے ، صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے آواز کو جاننے والی ٹکنالوجی اپنانے کے لیے تیار ہے۔ بینک نے اس ٹکنالوجی کا تین سال تک تجربہ کیا اور یہ مدت بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔

برکلے بینک کا کہنا ہے کہ "دنیا میں ہر شخص اپنے فنگر پرنٹ کی طرح ایک منفرد آواز رکھتا ہے"۔ اس امر نے بینکوں کے لیے آواز کے استعمال کو ایک کھلا آپشن بنا دیا ہے تاکہ اس کو افراد کے لیے پاس ورڈز اور خفیہ نمبروں سے بدل دیا جائے۔ بینک کے مطابق یہ آپشن کمپنیوں اور بزنس سیکٹروں کو چھوڑ کر صرف انفرادی صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ صوتی ٹکنالوجی کو ٹیلیفون بینکنگ یا آن لائن بینکنگ کے استعمال کے وقت شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے کہ بینکوں کو ان دونوں ذرائع سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کو محفوظ بنانے میں ابھی تک بعض مشکلات کا سامنا ہے ، بالخصوص انٹرنیٹ جس کے ذریعے ہیکر ہر وقت موقع سے فائدہ اٹھانے کی تلاش میں رہتے ہیں۔

"دی ٹائمز" کے مطابق برکلیز کی جانب سے استعمال میں لائے جانے والے نظام میں ، جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ بینکوں کے لین دین میں عالمی سطح پر تیزی سے پھیل جائے گا، کسی بھی شخص کا وائس ٹیگ بینک کے ساتھ اُس کی تین بار ٹیلیفونک گفتگو کے بعد متعین کیا جائے گا۔ اس کے بعد الکٹرونک نظام محض کال کرنے والے کی آواز سن کر ہی اس کی شناخت کی تصدیق کرلے گا۔ یہ وائس ٹیک بینک کے الکٹرونک نظام میں رجسٹرڈ ہوگا۔

بینک کا کہنا ہے کہ " انسانی آواز منہ اور گلے کی صوتی تشکیل کی بنیاد پر 100 سے زائد خصوصیات پر مشتمل ہوتی ہے یعنی کہ وائس ٹیگ 100 حروف یا اس سے کہیں زیادہ پر مشتمل ایک منفرد پاس ورڈ کے برابر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وائس ٹیگ لوگوں کے وضع کردہ پاس ورڈ سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ اس نظام کے تحت صارف کی جانب سے کال پر محض چند الفاظ بولے جانے پر ہی صوتی ٹکنالوجی شناخت کا عمل مکمل کرلے گی اور یہ دورانیہ چند سیکنڈوں سے زیادہ نہیں ہوگا"۔

اس ٹکنالوجی کے پھیل جانے کی صورت میں یہ صارفین کو اپنے پاس ورڈز اور خفیہ نمبروں کو یاد رکھنے کی جھنجھٹ سے بھی آزاد کردے گی ، اس طرح انہیں پاس ورڈ بھول جانے پر درپیش مشکلات اور وقت کے ضیاع سے بھی نجات مل جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں