ہیلری کلنٹن کی مشیر "ہُما" کے والد کون ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مغربی میڈیا ان دنوں ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کی سربراہ اور متنازعہ شخصیت " ہُما عابدین " کو خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ 1976ء میں مشی گن میں پیدا ہونے والی بھارتی نژاد خاتون پر اسلام پسند تنظیم "الاخوان المسلمون" کی جانب میلان رکھنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہما کے والدین نے پہلے امریکا ہجرت کی ، اس کے کئی سالوں کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ منتقل ہوگئے اور پھر دوبارہ سے امریکا لوٹ گئے۔ والد سید زین العابدین کا تعلق بھارت سے جب کہ والدہ صالحہ عابدین پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی اس رپورٹ میں امریکی حزب اختلاف کے ریپبلکنز کے لیے سب سے زیادہ متنازعہ شخصیت کے "والد" پر زیادہ روشنی ڈالی گئی ہے۔

سید زین العابدین برطانیہ میں Institute of Muslim Minority Affairs کے بانی اور اس کے جریدے کے چیف ایڈیٹر تھے ، اس جریدے کو آج کل ان کی اہلیہ صالحہ محمود عابدین چلا رہی ہیں۔ سید زین العابدین اپریل 1928ء میں نئی دہلی میں پیدا ہوئے اور 1993ء میں تقریبا 65 برس کی عمر میں فوت ہوگئے۔

سید زین العابدین کی 4 اولاد ہیں ان کے نام حسان ، ہُما ، محمود اور ہبہ ہیں۔

سید زین العابدین نے ویسٹرن مشی گن یونی ورسٹی میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے اس کے بعد وہ جدہ میں کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی سے منسلک ہو گئے۔ جدہ میں قیام کے دوران انہوں نے مسلم اقلیت کے امور کا مرکز قائم کیا بعد ازاں اس کا صدر دفتر برطانوی دارالحکومت لندن منتقل کردیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے( IMMA) کے نام سے مرکز کا خصوصی جریدہ بھی جاری کیا۔ اس کا مقصد اسلامی تحقیقات اور مباحثوں کو شائع کرنا تھا۔

سید زین العابدین کو مغربی ممالک میں مسلم اقلیتوں کی "سماجی اقتصادیات اور سیاسی صورت حال" سے متعلق تحقیقات کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔

زین العابدین نے 1947ء میں علی گڑھ یونی ورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز مکمل کیا اور بعد ازاں پینسلوینیا یونی ورسٹی سے امریکی ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ہُما عابدین کے والد کون ہیں ؟

سید زین العابدین کی پرورش جنوبی ایشیا کے اہم سیاسی واقعات کے بیچ ہوئی۔ ان واقعات میں برطانوی سامراج کا خاتمہ اور ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک حتمی مملکت کا وجود شامل ہیں۔ اسی دوران عابدین نے ہندوستان میں ابو الاعلی مودودی کی قائم کردہ "جماعت اسلامی" سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا جس کو بعض لوگ برصغیر میں ، مصر کی جماعت الاخوان المسلمون سے مشابہت رکھنے والی جماعت قرار دیتے ہیں۔ وہ پچاس کی دہائی میں سرکاری طور پر جماعت اسلامی کے رکن بن گئے جب کہ ان کی عمر 25 برس سے زیادہ نہ تھی۔

جس زمانے میں سید زین العابدین شعبہ انگریزی ادب سے فارغ ہوئے اسی دوران وہ مودودی صاحب کے قائم کردہ ایک دینی تعلیم کے مرکز سے بھی فارغ التحصیل ہوگئے۔ اُس زمانے میں سید زین العابدین نے اپنی تمام تر توجہ اس بات پر دی کہ خودمختاری حاصل کرنے کے بعد ایک جمہوری نظام حکومت کے تحت ہندوستان کی مسلم اقلیت کی کامیابی کے راستوں کو تلاش کیا جائے ، وہ بھی ایسی حکومت جس کی غالب اکثریت پر ہندوستان کے طبقاتی نظام کا کنٹرول ہو۔

زین العابدین کئی برس تک ہندوستان میں جماعت اسلامی کے قریب رہے اور اس کے بعد امریکا میں فلاڈلفیا میں سکونت اختیار کر کے اپنی اعلی تعلیم مکمل کی۔

وہ اسّی کی دہائی کے آغاز میں رابطہ عالمی اسلامی میں مشیر اور مسلم علماء اتحاد کے رکن بن گئے۔ اس دوران وہ مسلم اقلیتوں کے مغربی معاشروں میں گھل مل جانے کے خیال پر کام کرنے لگے۔

زین العابدین نے برطانیہ اور امریکا میں متعدد اسلامی مراکز کی رکنیت حاصل کرلی جن میں آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک ریسرچ بھی شامل ہے۔ اس مرکز کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سربراہ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مسلم علماء اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے متعدد علماء کرام شامل تھے۔

سید زین العابدین کا بنیادی تناظر

سید زین العابدین کو درپیش سب اہم چیلنج مسلم اقلیتوں کا غیراسلامی قوانین اور عدلیہ کی ماتحتی میں آنے کا مسئلہ تھا۔ اس امر سے اسلامی شناخت کے لیے خطرہ ہوسکتا تھا۔

جرمن محقق ڈاکٹر کرسٹن ٹرول کے مطابق سید زین العابدین نے دنیا بھر میں مسلمانوں کی ایک تہائی تعداد پر ، جو مغرب میں غیرمسلم ممالک میں رہتے ہیں خصوصی توجہ دی۔ وہ اس بات کے مکمل طور پر قائل تھے کہ ان معاشروں میں مسلمانوں کی طویل المیعاد سلامتی کی ضمانت صرف اسی طرح ممکن ہے کہ قرآن کی حامل امت کے ضمیر کا مؤثر طریقے سے احیاء ہو اور اسلامی شریعت پر مبنی اجتہادی رجحان کا سہارا لیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب میں مساجد اور اسلامی مراکز کی تعمیر کے علاوہ آئمہ کی تیاری میں مدد کی جائے۔

ڈاکٹر ٹرول کے مطابق سید زین العابدین کا یہ موقف کہ "اسلامی اکائی کے ضمیر کی نگرانی ناگزیر ہے تاکہ سیاسی امور کو دینی امور کے بگاڑ کا ذریعہ بننے سے روکا جاسکے"، بذات خود سیاسی قوت پر توجہ مرکوز کرنے کے مخالف ہے۔ ٹرول کا کہنا ہے کہ زین العابدین کا نقطہ نظر مدینہ منورہ میں نبوی دور (جو اسلامی ریاست کے قیام کا دور شمار کیا جاتا ہے) پر توجہ کے عدم ارتکاز اور مکی دور ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دعوت کا دور تھا) سے صرف نظر پر مبنی ہے۔

زين العابدين.. مودودی اور ندوی کے بیچ

ایسا نظر آتا ہے کہ جرمن محقق نے ایک بات کو نظرانداز کردیا اور وہ یہ کہ سید زین العابدین کی رائے کا مطلب اس سے زیادہ ہر گز نہیں کہ "مدنی دور" کے نظریے سے جو کہ ابو الاعلی مودودی کے نظریات کی بنیاد تھا.. "مکی دور" کے نظریے کی جانب منتقل ہوا جائے جس کو ابو الحسن علی ندوی نے فکری تعلق کے ذریعے اپنایا تھا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ دونوں ہی راستوں کا مقصد ایک ہے اور وہ ہے "اسلامی خلافت کی واپسی"۔

سید زین العابدین اپنے ایک اقتباس میں کہتے ہیں " مکہ مکرمہ میں نبی اللہ کے رسول تھے جب کہ مدینہ منورہ میں واقعات نے ان کو اضافی کردار عطا کر دیا تھا جہاں وہ اپنے روحانی کردار کے ساتھ ساتھ ریاست کے سربراہ بھی تھے۔ مدینے کا دور ایک آپشن ہے جو مسلمانوں کے راستے میں شاید آئے اور شاید نہ آسکے اور اس کو اضافی کہا جاسکتا ہے تاہم مکہ کا دور ضرورت ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں"۔

اسی دعوت کا پرچار ابو الحسن علی ندوی نے مصر میں 1370 ہجری میں الاخوان المسلمون جماعت کے ارکان کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔ ابوالحسن کا کہنا تھا کہ "یہ حکومت جو اپنے وقت میں انبیاء کے لیے قائم ہوئی محض اللہ عزوجل کی جانب سے ایک انعام اور دین کے مقاصد تک پہنچنے ، اس کے احکامات پر عمل درامد اور معاشرے کی تبدیلی کا ایک ذریعہ تھی۔ یہ حکومت ان انبیاء علیہم السلام کی غرض و غایت ہر گز نہ تھی ، یقینا یہ دعوت اور جہاد کا ایک فطری نتیجہ تھی"۔

ابوالحسن علی ندوی کے مطابق " وہ غایت جس کا قصد کیا جاتا ہے اور وہ نتیجہ جو ظاہر ہوتا ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی عقلوں کو دعوت کے لیے اور لوگوں کو تاریکیوں سے نور کی جانب اور ظالمانہ نظام سے اسلام کے عدل کی جانب لانے کے لیے خالص کر لیں"۔

یہ تھی سید زین العابدین کی زندگی پر ایک نظر جو ہیلری کلنٹن کی مشیر "ہُما عابدین" کے والد ہیں۔ جی ہاں وہ ہی ہُما جنہوں نے 1996 سے 2016 تک تقریبا اپنا پورا کیرئر ہیلری کے ساتھ وابستہ رہ کر گزارا ہے۔ کانگریس میں ہُما کی شخصیت کے حوالے سے کافی تنازع رہا ہے۔ بالخصوص ان کے امریکی صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم کی سربراہ کے طور پر تقرر کے بعد صدر اوباما نے بھی ان کا دفاع کیا تھا۔ یہ سوال اب بھی باقی رہ جاتا ہے کہ واقعی ہُما عابدین کا الاخوان المسلمون جماعت سے کوئی تعلق ہے ؟

مقبول خبریں اہم خبریں