.

یونان :مہاجر کیمپوں میں خواتین سے وحشیانہ اور انسانیت سوز سلوک

شامی اور افغان مرد خیموں سے باہر نکلنے والی عورتوں کو ہراساں کرتے اور آوازے کستے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان میں جنگ زدہ علاقوں سے پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر آنے والی تارک وطن خواتین اور خاص طور پر دوشیزاؤں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جارہا ہے اور بعض کے ساتھ تو ان کے قریبی رشتے دار مرد ہی انسانیت سوز سلوک روا رکھ رہے ہیں۔

آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا کے مصداق یہ خواتین اب ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔وہ جنگ زدہ علاقوں سے جانیں بچا کر آگئی ہیں لیکن مہاجر کیمپوں میں گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں۔یونانی حکام کی جانب سے انھیں پناہ دینے کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے طرح طرح کی اذیتوں سے گزرنا پڑرہا ہے۔انھوں نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ ایک بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ کا رُخ کیا تھا لیکن وہاں بھی مصائب نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔

شام کے شمالی شہر ادلب سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ وردہ ان ہی تارک وطن خواتین میں سے ایک ہیں جنھیں تارکین وطن کے لیے قائم کیمپوں روزانہ ہی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے اور انھیں نوجوان تارک وطن مرد ہراساں کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے ہیں۔

اٹھارہ سالہ وردہ اپنی آنکھوں میں ایک بہتر زندگی کے سپنے سجائے اپنے خاندان کے ہمراہ ترکی سے دشوار گذار سفر کے بعد یونان پہنچی تھی۔وہ گذشتہ چار ماہ سے ایتھنز میں پائریس کی بندرگاہ پر قائم ایک کیمپ میں اپنے مینگیتر اور چھے رشتے داروں کے ساتھ رہ رہی ہے۔

وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی خیمے میں مقیم ہے۔ان کا مشترکہ طہارت خانہ ہے۔ان کی کوئی نجی زندگی نہیں۔کیمپ میں مقیم شامی اور افغان مردوں کی بڑی تعداد للچائی نظروں سے وردہ اور دوسری نوجوان لڑکیوں کی جانب دیکھتی رہتی ہے۔ان میں سے زیادہ تر گروپوں کی شکل میں بیٹھتے ہیں اور جونہی کوئی عورت نظر آتی ہے تو اس پر آوازے کسنا شروع کردیتے ہیں۔

وردہ نے تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ افغان مرد خاص طور پر نوجوان دوشیزاؤں کو ہراساں کرتے ہیں۔انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ میں ایک مسلمان ہوں اور کسی کی منگیتر ہوں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق اور شام سے یورپی سرزمین پر پناہ کی تلاش میں آنے والی خواتین کو ہرقسم کے تشدد ،استحصال اور جنسی ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔

مارچ میں یورپی یونین نے پناہ کی تلاش میں آنے والی خواتین ،ہم جنس افراد ،لزبین اور گے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک رہ نما کتابچہ شائع کیا تھا۔تنظیم نے یونان میں پناہ گزین کیمپوں میں مہاجر خواتین کے لیے الگ طہارت خانے اور سونے کی جگہیں مختص کرنے کی سفارش کی تھی لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔

جنسی اور جسمانی تشدد

اٹھارہ سالہ احمد حمود اور اس کا خاندان بھی ان تارکین وطن میں شامل ہے جنھیں پناہ گزین کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑرہا ہے۔انھیں دو راتیں ایک پارک میں سونا پڑا تھا۔احمد کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا۔اس نے طبی امداد کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

اس کے بعد وہ لیسبوس اور کارا تیپ میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں واپس چلے گئے۔اس نے اپنی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ پہلی رات تو ہماری بہت بُری گزری لیکن دوسری رات بدتر تھی۔اچانک مجھے کراہنے اور رونے کی آواز سنادی۔میں سمجھا کہ یہ میری بہن ہے لیکن یہ میری والدہ تھیں۔جب میں نے چند سیکنڈز کے بعد اپنی ماں کو دیکھا تو چار مرد ان پر حملہ آور تھے۔میں ان تک پہنچا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور میں ان کو پہچان نہیں سکا۔

اس نے افسردگی کے عالم میں بتایا کہ وہ چاروں میری والدہ کی جبری عصمت ریزی کی کوشش کررہے تھے۔انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے میری والدہ کو زخم لگائے اور جسم کے حصوں کو جلا بھی دیا اور اس کے بعد سے وہ رو اور کراہ رہی ہیں۔

اس واقعے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کے اگلے روز جب احمد حمود اور ان کے خاندان نے یونانی حکام سے مدد کے لیے رجوع کیا تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اس کے بعد پولیس کو ان کی حفاظت کے لیے بلا بھیجا گیا۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق جنوری میں یونان سے دوسرے یورپی ممالک کا رُخ کرنے والے تارکین وطن میں 55 فی صد خواتین اور بچے تھے اور یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں دُگنا تھی۔

لیسبوس میں واقع مہاجرکیمپ میں مارچ میں آنے والی سترہ سالہ مریم حسین نے اپنے ساتھ ناروا سلوک کی انوکھی داستان سنائی ہے۔اس کا جذباتی استحصال کیا جارہا تھا لیکن یہ کوئی اور نہیں اس کا سگا والد تھا جو اپنی بیٹی کا اس مشکل وقت میں سہارا بننے کے بجائے اس کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھے ہوئے تھا کیونکہ وہ دونوں ایک ہی خیمے میں رہ رہے تھے۔اس نے بہتیری کوشش کی کہ اس کو والد سے الگ کردیا جائے لیکن جب وہ ناکام رہی تو اس نے خودکشی کی بھی کوشش کی۔

ایتھنز میں یونان کی پناہ گاہ سروس کی ایک ذمے دار آئیوٹا پریسٹیری کا کہنا ہے کہ وہ مریم حسین کی کہانی سن کر ہکا بکا رہ گئی ہیں۔انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ مہاجر کیمپوں میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک اور ان پر تشدد سے لاعلم تھیں۔اگر کسی خاتون کو مریم ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو وہ ایک سادہ درخواست دیتی ہے اور اس کو اس کے خاندان سے الگ کردیا جاتا ہے۔

مہاجر کیمپوں میں مقیم عورتوں کو مردوں کے جنسی تشدد اور ہراسیت ہی کا سامنا نہیں بلکہ انھیں پولیس اہلکار بھی تشدد کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔شام سے آنے والی فلسطینی مہاجر خاتون سلمہ نے بتایا ہے کہ وہ نزدیکی کیمپ میں اپنی ایک دوست سے ملنے کے لیے گئی تو ایک پولیس افسر نے اندر داخل نہیں ہونے دیا،اس نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور مجھے ٹھڈا مار دیا جس سے میری ایک پسلی ٹوٹ گئی تھی۔

مس آئیوٹا پریسٹیری کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے کسی عورت پر پولیس کے تشدد کا بھی پتا چل رہا ہے۔انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کے محکمے کے حکام کیمپوں کا دورہ نہیں کرتے ہیں۔یوں وہ ان کیمپوں میں خواتین کی حالت زار سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔