حرم مکی کی آرائش کے نگراں امریکی کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب نے حرم مکی کی تزئین و آرائش کے لیے دنیا بھر میں اسلامی فنون کے شعبے میں کام کرنے والے 700 بہترین ماہرین اور روئے زمین پر موجود خوب صورت ترین قیمتی پتھروں کا انتخاب کیا۔ اس سلسلے میں افغانستان سے بہترین قیمتی پتھروں کو منگوایا گیا، ترکی سے بہترین خطاطوں کو لایا گیا، بھارت سے نمایاں ترین سنگ تراش آئے اور منصوبے کی نگرانی کے لیے امریکا سے عربی رسم الخط کے جہاں دیدہ ترین ماہر ڈاکٹر عبدالکریم کرائٹس کو چنا گیا۔

اس منصوبے پر کام رواں سال کے اواخر میں مکمل ہوجائے گا۔ ماربل کے 1318 فن پاروں کے ساتھ یہ سنگ تراشی کا سب سے بڑا منصوبہ شمار کیا جا رہا ہے جس کا رقبہ 2600 مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ حرم مکی میں شامیہ کی سمت تزئین و آرائش کے لیے ان فن پاروں پر عربی زبان میں آیات قرآنی کندہ کی جائیں گی۔

ڈاکٹر عبدالکریم کرائٹس کا کہنا ہے ک انہوں نے بھارت میں پچاس برس کام کیا۔ 2008ء میں انہیں مسجد حرام میں شامیہ کی سمت عربی خطاطی کے فن پاروں کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ اسلامی تعمیرات کی تاریخ میں کسی بھی مسجد کے اندر عربی خطاطی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور اس پر بیک وقت 700 افراد کام کر رہے ہیں۔

کرائٹس کے مطابق حرم مکی کا منصوبہ ایک بڑا اعزاز اور عظیم موقع تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو مطلوبہ شکل میں کامیابی سے پورا کیا ہے۔ سفید سنگ مرمر پر افغانستان سے منگوائے گئے قیمتی پتھر مرصع کیے گئے ہیں۔

کرائٹس نے بتایا کہ ماربل کے فن پاروں سے قبل انہوں نے مسجد حرام میں ماربل کے متحرک منبر پر کام کیا۔ اس منبر کو نماز جعمہ کے لیے لایا جاتا ہے جس پر چڑھ کر امام خطبہ دیتے ہیں۔ اس کی تیاری میں اکیس ویں صدی کی واٹر ٹکنالوجیز، ہندوستان میں سترھویں صدی کے پیشہ وارانہ فن کا استعمال کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس کو موجودہ زمانے کی جدید ترین ٹکنالوجی سے بھی لیس کیا گیا ہے۔ یہ منبر ایئر کنڈینشنڈ اور ساؤنڈ سسٹم سے آراستہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک اسکرین بھی فراہم کی گئی ہے جس کے ذریعے امام خطبے کو پڑھ سکتا ہے۔ اس فنی اور تکنیکی شاہ کار کی تیاری میں 300 پیشہ ور افراد نے حصہ لیا۔

امریکی شہری ڈاکٹر کرائٹس نے 1975ء میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام عبدالکریم رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 50 برس سے بھارت میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں اسلامی فنون کے احیاء کے لیے کوشاں ہیں۔

اب وہ مملکت میں ہیں جہاں مکہ مکرمہ مسجد حرام میں فنی شاہ کار کو خوب صورت ترین شکل میں منظرعام پر لانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کر رہے ہیں۔

عبدالکریم کے مطابق گزشتہ پچاس برسوں کے دوران انہوں نے مراکش سے لے کر ملائیشیا تک تمام اسلامی ممالک میں دست کاری اور ہاتھ سے تیار کی جانے والی روایتی مصنوعات کو واپس لانے کے لیے کام کیا۔

عبدالکریم نے بتایا کہ مملکت میں قیام کے دوران وہ مسجد حرام کے منصوبے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مملکت میں دست کاری اور ہاتھ کی مصنوعات سے متعلق ملک گیر پروگرام "بارع" کے لیے ثقافتی مشیر کی ذمہ داریاں بھی ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ نصف صدی تک بہت سے اسلامی ممالک مثلا مراکش، ملائیشیا، ترکی، ایران، ازبکستان اور افغانستان میں کام کے بعد حال ہی میں انہوں نے سعودی عرب میں اسلامی تہذیب کے تناظر میں عربی خطاطی کو دریافت کرنے کا فیصلہ کیا۔

عبدالکریم کرائٹس کے نزدیک دست کاری کی ترقی اور اس کو برقرار رکھنا انتہائی اہمیت کے حامل امور ہیں۔ اسلامی دنیا میں لاکھوں دست کار ہیں جن کو کام اور روزگار کی ضرورت ہے۔ ان کے پاس ایسی مصنوعات ہیں جن کی مارکیٹنگ کے لیے الکٹرونک تجارت اور ویب سائٹس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتوں اور نجی تجارتی مراکز کے مالکان کو بھی شریک کیا جاسکتا ہے۔ ہم دست کاری سے متعلق ان کاموں کے حوالے سے ذمہ دار ہیں تاکہ ان کو معدوم ہونے سے بچایا جاسکے۔

عبدالکریم کرائٹس سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب نے دست کاری سے متعلق قومی سطح کے پروگرام "بارع" کے ذریعے مملکت میں دست کاری کے شبعے کو بھرپور توجہ دی ہے۔ اس پروگرام نے سعودی دست کار کو عالمی منڈیوں سے جوڑ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں