حدیث میں موذی قرار دیے گئے شکرے کی مچھلی چُراتے تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شکاری پرندوں میں ایک ایسا "لُٹیرا" قسم کا پرندہ بھی ہے کہ دوسروں کی روزی پر ڈاکہ ڈالنا اس کی طبیعت کا حصہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پرندے کو موذی قرار دے کر یہ حکم دیا کہ یہ جہاں بھی ہو جس حالت میں بھی ہو اس کو ہلاک کردیا جائے۔ یہ پرندہ "شکرا" ہے جس کوBrahminy Kite بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نامHaliastur indus ہے۔

"شکرے" کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلند و بالا درختوں کی چوٹی پر اور اونچی تعمیرات پر رہتا ہے یا پھر کھیتوں کے اوپر منڈلاتا رہتا ہے تاکہ اپنے "ہدف" کو واضح طور پر دیکھ سکے اور جہاں موقع ملے فورا آسانی کے ساتھ پلک جھپکنے میں اس کو لے اُڑے۔ کالے شکرے کو خاص طور سے "خوراک چور" کہا جاتا ہے۔

دو روز قبل برطانوی نیوز ایجنسی Cater News نے ایک شکرے کی تصاویر جاری کی ہیں جس کو رنگے ہاتھوں جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصاویر میں یہ شکرا دریا میں ایک جال میں پھنسی مچھلیوں کو چوری کرتا نظر آرہا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کے شہر بنگلور کا ہے۔

ان تصاویر کو 31 سالہ بھارتی شہریVaibhav Mupadi نے اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جو پرندوں کی تصاویر اتارنے میں ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ان تصاویر میں سب سے اہم تصویر وہ ہے جس میں شکرے نے پہلے جال کے اندر سے ایک مچھلی کو نوچ کر نکالا اور اس کو لے کر کسی دوسری جگہ اُڑ گیا۔ اس کے بعد پھر سے لوٹ کر شکاری کی غیرموجودگی میں جال پر جھپٹ پڑا۔ واضح رہے کہ شکرا اپنی تیز نظر اور دور کی مسافت سے آواز سننے کی صلاحیت کے سبب مشہور ہے۔

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مختلف جانوروں اور پرندوں کو موذی ہونے کے سبب مار دینے کا حکم وارد ہوا ہے۔ ان میں شکرا ، چتکبرا کوّا ، چوہا ، دیوانہ کتّا ، سانپ اور بچھو شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں