.

تعویذ اور دم کے نام پر خواتین سے دست درازی : فقہی محقق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی ثقافت کے مطابق شرعی تعویذ اور قرآن سے علاج معتبر شرعی دلائل سے ثابت ہے۔ تاہم بعد ازاں یہ کاروبار ، فریب اور لوگوں کے مال کو لُوٹنے کے ذریعے میں تبدیل ہوگیا۔ بعض لوگ اس کو مشہور ہونے کا ذریعہ بھی بناتے ہیں۔ "العربیہ" نیوز چینل کے پروگرام "مهمة خاصة" کی ٹیم نے سعودی عرب میں اس موضوع کے حوالے سے تحقیق کی۔

تعویذ دینے والے بعض عاملین اس موضوع کو زیر بحث لانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ " آپ لوگ اللہ کا کلام پڑھنے والوں کو نکتہ چینی کا نشانہ بنا رہے ہیں"۔ فقہی محقق سعد السبر کا کہنا ہے کہ "شرعی تعویذ اور روحانی علاج کرنے والے وہ شیوخ جو متقی پرہیز گار اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ میرے موضوع سے مستثنی ہیں"۔

السبر کے مطابق " ہم نے تو اس شخص کی بات کی ہے جو عورت کو بلیک میل کر کے اس کے مال اور آبرو پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے اور وہ شخص جو کسی عورت پر دم کرنے کے لیے اس کو تنہائی میں لے جاتا ہے"۔

رواں ہفتے العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "مهمة خاصة" کا موضوع شرعی تعویذ اور جھاڑ پھونک تھا۔

طبی معالجین کی جانب سے ناامید ہوجانے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے جسمانی اور نفسیاتی آلام اور مصائب سے نجات حاصل کرنے کے لیے تعویذ اور جھاڑ پھونک کا سہارا لیتی ہے۔ تاہم صحیح تعویذ دینے والوں اور ان کے مشابہہ افراد میں الجھا دینے والے اختلاط کی وجہ سے عام آدمی کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ شرعی تعویذ کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا شیخ یا اس کو کمائی کا ذریعہ بنانے والے کے درمیان فرق کر سکے۔

روحانی علاج کی دو صورتیں ہیں.. پہلی صورت میں تو کتاب و سنت اور صحابہ و سلف صالحین کے طریقہ کار پر عمل کیا جاتا ہے ، اس کو شرعی تعویذ کہتے ہیں۔ دوسری صورت میں شعبدے بازی کا سہارا لے کر جنوں کی موجودگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس دوران دُھونی ، پانی اور جڑی بوٹیوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

مختلف امراض میں مبتلا افراد علاج کے حصول اور شفایاب ہونے کے واسطے خود کو ایسے معالجین کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں جو کسی قسم کی طبی اہلیت نہیں رکھتے اور مریضوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ایک دوسری پراسرار دنیا میں لے جاتے ہیں۔

تعویذ دینے والوں نے عطاریوں کی طرح اپنے خصوصی مراکز بھی کھول لیے ہیں جہاں وہ شرعی تعویذ یا قرآن سے علاج کے نام پر پانی ، شہد اور تیل تیار کر کے فروخت کرتے ہیں۔

ان لوگوں نے اپنے لیے دور دراز ٹھکانے بنا رکھے ہیں جس کے نتیجے میں علاج کے خواہش مند افراد کو سفر اور تھکن کی مشقت کے علاوہ راستے کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان تمام امور کے باوجود یہ طریقہ علاج وسیع پیمانے پر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے اس لیے کہ مریضوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ کون کاروباری ہے اور کون صحیح تعویذ دینے والا۔