باپردہ سعودی خاتون کی شکاگو پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی

شکاگو پولیس کے افسروں نے روزے دار مسلم خاتون کو دہشت گرد ہونے کے شُبے میں گرفتار کر لیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا میں ایک باپردہ سعودی خاتون نے شکاگو پولیس کے خلاف ناروا سلوک، شہری آزادی کے حق کو پامال کرنے اور دہشت گرد قرار دینے ایسے غلط الزام پر مقدمہ قائم کرنے پرعدالت میں قانونی چارہ جوئی کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔

شکاگو پولیس کے افسروں نے بتیس سالہ سعودی خاتون عتمید مطر کو 4 جولائی 2015ء کو ایک سب وے اسٹیشن پر کئی منٹ تک خود کش بمبار ہونے کے شُبے میں روکے رکھا تھا اور پھر جیل میں بند کردیا تھا۔یہ خاتون روزے سے تھیں اور اس وقت وہ افطاری کا وقت قریب ہونے کی وجہ سے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنی جائے قیام کی جانب رواں دواں تھیں مگر گرفتاری کے بعد وہ روزہ بھی افطار نہیں کرسکی تھیں۔

شکاگو پولیس کے افسروں نے ان کے مکمل نقاب میں ہونے اور کمر کے ساتھ اپنا بیگ باندھے ہونے کی وجہ سے یہ خیال کیا تھا کہ وہ ایک خود کش بمبار ہیں۔چنانچہ انھوں نے سب وے کی سیڑھیوں پر ہی انھیں جا لیا۔ پھر خاتون کو گھیرا ڈال کر نیچے گرادیا ،دست درازی کی اور نقاب اتار کر ان کی مکمل جامہ تلاشی لی تھی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بتیس سالہ المطر دو سال قبل سعودی عرب سے شکاگو انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس افسروں نے ان کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کی تھی اور مذہبی علامت حجاب کو اتارنے کے بعد سب وے اسٹیشن کی سیڑھیوں پر ہی گرفتار کر لیا تھا۔یہ تمام منظر سکیورٹی کیمروں میں بھی فلم بند ہوا تھا اور ان کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت سیڑھیوں پر ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا۔

کونسل برائے امریکی اسلامی تعلقات ( کیئر) کی شکاگو شاخ کے وکیل فل رابرٹسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''المطر نے حجاب پہن رکھا تھا اور ان کے خلاف پولیس نے اسی بنا پر کارروائی کی تھی۔ پولیس افسروں نے اسلام فوبیا اور نسل پرستی کی بنیاد پر یہ اشتعال انگیز کارروائی کی تھی''۔

اس واقعے کی رات درج کی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق ''افسر 4 جولائی کو چھٹی ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کی کسی سرگرمی سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ تھے۔اس دوران انھوں نے المطر کو ''مشکوک حرکات'' کرتے ہوئے دیکھا۔وہ پُرعزم انداز میں تیز رفتاری سے چلے جارہی تھیں''۔

اس میں مزید یہ کہا گیا تھا کہ ''پولیس افسر یہ سمجھے تھے کہ خاتون کی کلائیوں کے گرد دھماکا خیز مواد ہوسکتا ہے اور اس نے اپنی کمر پر بھی کچھ باندھ رکھا تھا۔افسروں نے یہ بھی خیال کیا تھا کہ خاتون تنہا خودکش بمبار ہوسکتی ہے۔اس لیے انھوں نے اس کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا تھا''۔

رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ کے۔9 یونٹ نے خاتون کے سامان میں سے دھماکا خیز مواد ڈھونڈ نکالنے کے لیے اس کی مکمل تلاشی لی تھی لیکن اس کا نتیجہ منفی رہا تھا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے کے باوجود المطر کے خلاف انصاف کی راہ میں حائل ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی تھی۔ پولیس نے ان پر مزاحمت کرنے اور احکامات کو نہ ماننے کا الزام بھی عاید کیا تھا۔تاہم ریاستی ٹرائل کے دوران انھیں ان تمام الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔

سعودی خاتون نے چھے پولیس افسروں اور شکاگو شہر کو مدعاعلیہان ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف قانونی درخواست دائر کی ہے اور ان پر طاقت کے بلاجواز استعمال ،غلط گرفتاری ،مذہبی آزادی کے اظہار کی خلاف ورزی اور جھوٹا استغاثہ دائر کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔شکاگو پولیس کے ترجمان نے فوری طور پر اس قانونی درخواست پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں