.

شمالی کوریا کے آمر کا کتے مار کر ان کا گوشت کھانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا کے آمر "کم یونگ اُن" نیوکلیئر بموں اور بیلسٹک میزائلوں سے محبت اور اپنے بالوں اور ڈھول جیسے جسم کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انہوں نے ایک نئی مہم چلانے کا حکم جاری کیا ہے جس کے تحت بھوک کے مارے کوریائی باشندوں کی کتے کو گوشت کو اپنی خوراک میں مزید جگہ دینے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

کتے کا گوشت کھانے کی تشہیر کی مہم کے لیے پلیٹ فارم مقامی ذرائع ابلاغ ہیں۔ شمالی کوریائی باشندوں کو باور کرایا جا رہا ہے کہ کتے کے گوشت میں مرغی، بطخ، گائے اور سُور سے زیادہ وٹامن پائے جاتے ہیں اور یہ آنتوں اور معدے کے لیے مفید ہے۔

یوٹیوب پر نشر ہونے والے شمالی کوریا کے ایک چینل DPRK TODAY کی رپورٹ میں اپنے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ " پہلے کتے کو جان سے مار دیں اس کے بعد پکانے سے پہلے اس کی کھال اتار لیں تاکہ Dangogi نامی ایک ذائقہ دار پکوان تیار ہوسکے جس سے انسان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے"۔

اسی حوالے سے 6 اگست کوTongil Voice ریڈیو اسٹیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کتے کے گوشت کے قتلے "ایک بہترین دوا ہے بالخصوص گرمیوں کے ان ایام میں"۔ اس کے علاوہ KCBS ریڈیو نیٹ ورک نے کتے کا گوشت تیار کرنے کے مقابلوں کا بھی انعقاد کیا ہے۔ شمالی کوریا کی اس مہم نے جنوبی کوریا میں جانوروں کے حقوق کا دفاع کرنے والے کارکنان کے غصے کو بھڑکا دیا ہے جہاں کتے کا گوشت مقامی ڈشوں میں سے تھا تاہم اس کی اکثر آبادی اب اس پکوان کو چھوڑ چکی ہے۔

چین کے بعض صوبوں میں کتے کو کھانا ایک پرانا رواج ہے۔ چین کے جنوب مشرقی شہرYulin میں سالانہ ایک میلے کا انعقاد ہوتا ہے۔ "یولین میلے" کے نام سے مشہور ایونٹ میں ہزاروں کتوں کو کاٹ کر اس کے گوشت کو مختلف نوعیت سے تیار کر کے کھایا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد کی جانب سے اس میلے کے انعقاد کو روک دینے کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ تو اس دس روزہ میلے میں صرف اس لیے شرکت کرتے ہیں کہ وہاں سے کتوں کو خرید کر انہیں ذبح ہونے سے بچا لیا جائے۔