مصر : 49% طلاقوں کی وجہ بیوی کی تنخواہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک جدید مطالعے سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مصر میں طلاقوں کی اہم ترین وجہ بیوی کی ماہانہ تنخواہ پر ہونے والا اختلاف اور اسی طرح کام کا دباؤ ہے۔ ان دونوں امور کا ازدواجی زندگی پر اثر پڑتا ہے اور شوہر اور بیوی کے درمیان گرم جوشی کا فقدان دیکھنے میں آتا ہے۔

مطالعے میں فیملی کورٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مصر میں 49% ازدواجی اختلافات جن کا اختتام طلاق پر ہوتا ہے اس کی مرکزی وجہ بیوی کی تنخواہ ہے۔ فیملی کورٹ میں پیش کیے جانے والے مقدمات میں فریق بننے والی 53% خواتین کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ان پر اپنی تنخواہوں کے حوالے سے شوہروں کی طمع کا انکشاف ہوا اور معلوم ہوا کہ ان خواتین کی تنخواہیں درحقیقت مردوں کے لیے شادی کی اصل کشش تھیں۔

اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ ملازمت کرنے والی 20% طلاق یافتہ خواتین ایسی ہیں جن کی شادی کو دو سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب کہ 16% کی شادی کو ایک سال سے زیادہ نہیں گزرا تھا۔

علاوہ ازیں 30% کی شادی کو 5 برس اور 44% کی شادی کو 7 سے 10 برس تک گزرے تھے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملازمت پیشہ طلاق یافتہ خواتین میں تقریبا 54% کو جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ مادی اور معنوی بلیک میلنگ کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ ان خواتین کے شوہر ان سے ماہانہ کمائی جانے والی رقم ہتھیانے کی کوشش کرتے تھے۔

فیملی کورٹ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 80% خواتین نے کورٹ کے سامنے یہ بیان دیا کہ انہیں ازدواجی رشتے میں بندھنے پر ندامت ہے اور وہ دوبارہ سے ازدواجی زندگی کی طرف نہ لوٹنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں