.

وکالت کا طویل ترین ریکارڈ، فلسطینی کا نام گینز بک میں شامل

نابینا وکیل عمر رسیدگی کے باوجود وکلاء کی تربیت کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دُنیا بھر میں وکیلوں کی تعداد لاکھوں میں ہوگی مگر اس پیشے میں جو نام ایک عمر رسیدہ فلسطینی قانون دان نے کمایا ہے بلا شبہ وہ وکالت کی تاریخ میں آج تک کسی کے حصے میں نہیں آسکا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دنیا کے معمر ترین وکیل ایڈووکیٹ فواد شحادۃ ایک فلسطینی قانون دان ہیں جو پچھلے 66 برس اور 138 دن سے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ 90 سالہ شحادۃ کی وکالت کے اسی عالمی ریکارڈ کی بدولت آج ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

ایک صدی کے قریب عمر ہونے اور بینائی کھو دینے کے باوجود فواد شحادۃ آج بھی اپنے پیشے سے انصاف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ مقدمات کی پیروی تو کم ہی کرتے ہیں مگر نوخیز وکلاء کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے رام اللہ میں ایک دفتر بھی قائم کررکھا ہے۔ بڑھاپے کی نقاہت اور کمزوری ان کے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں بن سکی ہے۔ اگرچہ ان کے کام کی رفتار وہ نہیں رہی جو گئے وقتوں میں ان کی زندگی کا خاصہ سمجھی جاتی تھی۔ البتہ ان کی قانون فہمی اور مقدمات کی پیروی پرتوجہ آج بھی قابل رشک سمجھی جاتی ہے۔

طویل ترین وکالت کا اعزاز حاصل کرنے والے فلسطینی قانون دان کو حال ہی میں فلسطینی شہر رام اللہ میں منعقدہ ایک تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ حاضرین کے درمیان آہستہ آہستہ چلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے فخر اور خوشی ہے کہ میں آج بھی قانون کو سمجھتا اور اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتا ہوں۔

وکیل فواد شحادۃ نے بتایا کہ ان کے والد ایک صحافی تھی۔ وہ اپنے والد اور والدہ دنوں سے بے حد متاثر رہے۔ ابتدائی تعلیم فلسطین کے اسکولوں سے حاصل کی مگر قانون کی اعلیٰ تعلیم بیروت میں قائم امریکن یونیورسٹی سے مکمل کی تھی۔ یوں فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام سے بھی قبل 13 مارچ سنہ 1948ء کو قانون کی ڈگری لینے کے بعد وکالت کا آغاز کردیا تھا۔

قیام اسرائیل جسے فلسطینی "النکبہ" یعنی "مصیبت کبریٰ" کے طور یاد کرتے ہیں کے بارے میں بات کرتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کرنے والے وکیل نے بتایا کہ اسرائیلی ریاست کے قیام نے دیگر فلسطینیوں کی طرح انہیں بھی بری طرح متاثر کیا۔ ان کی وکالت کا پیشہ بھی متاثر ہوا مگر انہوں نے صہیونی ریاست اور اس کی ظالمانہ پالیسیوں کا مقابلہ جاری رکھا۔ رام اللہ میں ایک وکیلوں کی نمائندگی کے لیے ایک دفتر قائم کیا گیا جہاں سے انہوں نے باقاعدہ وکالت شروع کی اور پہلا مقدمہ اسرائیل کے خلاف لڑا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں فواد شحادہ نے بتایا کہ قیام اسرائیل کے بعد صہیونی ریاست نے بنکوں میں موجود فلسطینیوں کی رقوم ہتھیانے کی پالیسی اختیار کی توانہوں نے اپنے چچا زاد کے ساتھ مل کر کئی فلسطینیوں کی رقوم منجمد کرنے کی صہیونی پالیسی کے خلاف مقدمہ چلایا۔ اس وقت وہ رقم کروڑوں میں تھی۔

فواد شحادۃ کی زندگی حادثات سے بھی بھرپور رہی ہے۔ بعض واقعات ان کی زندگی کے ساتھ ایسے مربوط ہوئے کہ ان کی یادیں کبھی فراموش نہیں کرسکے۔ ان میں ارض فلسطین پر غاصب اسرائیلی ریاست قیام اور فلسطینیوں پر مظالم خاص طور پر شامل ہیں۔ جرائم پیشہ یہودی شرپسندوں نے ان پر متعدد بار قاتلانہ حملے بھی کیے۔ سنہ 1978ء میں المناک ٹریفک حادثے میں ان کی بینائی چلی گئی تھی مگر انہوں نے اس کے باوجود وکالت ترک نہیں کی۔ رام اللہ میں ان کے قائم کردہ دفتر میں ان سے تربیت لینے کے لیے 20 سے زاید وکلا شامل ہیں جن میں ان کے اپنے بیٹے اور اقارب بھی شامل ہیں۔