"ہم آپ کا حج بدل کریں گے"....مگر رقم کتنی دیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"ہم آپ یا آپ کے متوفی رشتے داروں کے بدلے میں حج کریں گے"، یہ جملہ کچھ عرصے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر ان افراد کی جانب سے پھیلایا گیا ہے جو مخصوص رقم کے عوض دوسروں کی طرف سے مناسک حج کی ادائیگی کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ حج کے سیزن کے قریب آنے کے ساتھ ہی اس رجحان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مطلوبہ حج کی نوعیت کے مطابق اس کا خرچ 4 سے 6 ہزار سعودی ریال ہے۔

فقہاء کے نزدیک حج بدل درحقیقت "کسی کی طرف سے وکیل بنائے جانے کے بعد اس کے لیے مناسک ادا کرنا ہے۔ یہ صرف ایسے مریض جس کے رُو بہ صحت ہونے کی امید نہ ہو، یا جسمانی طور پر معذور شخص، اس دنیا سے رخصت ہوجانے والے شخص کی جانب سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حج بدل کے بروکروں نے ہر جگہ اپنے اشتہار پھیلا کر اور اپنے نرخ 5000 ریال تک پہنچا کر اس کو ایک کاروبار میں بدل ڈالا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ رکن اپنی معنویت اور روحانیت سے خالی ہو گیا ہے اور یہ اجر کی طلب سے دور موسمی آمدنی کا ایک موقع بن چکا ہے۔

خالد الزہرانی ساٹھ کی دہائی کی عمر کے ایک مقامی سعودی شہری ہیں۔ انہوں عدم قدرت کے باعث اپنے متوفی بھائی کے لیے حج بدل کی ادائیگی کے سلسلے میں متعدد افراد سے رابطہ کیا تاہم وہ کسی کا بھی اعتماد حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ یہ معاملہ عبادت کے بجائے ایک کاروباری ڈیل کی طرح نظر آتی ہے جس کے مختلف نرخ مقرر ہیں۔ حج "افراد" یعنی عمرے کے بغیر 4000 ريال، حج "اقران" یعنی عمرے کے ساتھ 5000 ريال اور حج "تمتع" یعنی دو علاحدہ احراموں کے ساتھ حج اور عمرہ کے 6000 ريال ہیں۔

الزہرانی کے مطابق حج بدل کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ وہ فریضے کی ادائیگی ثابت کرنے کے لیے مقامات مقدسہ سے تصاویر اور وڈیو بھی بھیجیں گے تاہم ان کا اعتبار کرنا دشوار ہے بالخصوص جب کہ ان میں بعض افراد ایک ہی وقت میں کئی لوگوں سے ڈیل کر لیتے ہیں۔ وزارت حج کے زیر انتظام کوئی سرکاری سوسائٹی یا ادارہ نہ ہونے کے پیش نظر بعض لوگ ان افراد کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حج بدل ایک مروجہ کاروبار بن گیا ہے جس میں مجبور لوگوں کے حالات کا استحصال کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب شرعی امور کے محقق ڈاکٹر علی الشریف کا کہنا ہے کہ سلف صالحین سے یہ عمل ثابت نہیں ہے ، اگر یہ کوئی نیکی کا عمل ہوتا تو وہ ضرور اس جانب راغب ہوتے اور ویسے بھی نیکی کے کام میں پیسوں کا لین دین یہ نیکو کاروں کا شیوہ نہیں رہا۔ انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اگر اس سے مقصود "پیسہ کمانا ہے" تو یہ جائز نہیں ، اس لیے کہ یہ عمل کمانے اور تجارت کا ذریعہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر شریف نے واضح کیا کہ دو لوگوں کے سوا یہ امر مستحب نہیں کہ انسان مال لے کر کسی غیر کے لیے حج ادا کرے۔ ایک شخص تو وہ جس کو حج کو حج ادا کرنے کی شدید خواہش ہو اور وہ ادائیگی سے قاصر ہو تو ایسا شخص مال لے کر اپنی نیک نیت کو پورا کرتے ہوئے اپنے بھائی کی طرف سے فریضہ حج ادا کرے۔ دوسرا وہ شخص جو کسی مرحوم شخص سے تعلق یا رشتے کی بنا پر مرحوم کے ذمے حج کی ادائیگی چاہتا ہو، ایسا شخص مال لے کر اس کو ادا کرسکتا ہے۔ ان دو صورتوں کے علاوہ یہ عمل مستحب نہیں۔ اس لیے کہ اس طرح بعض لوگ خود سے فریضہ ادا کرنے کے بجائے دوسروں پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں