.

حرم مکی ماضی وحال کے آئینے میں: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد حرام کو ہر دور کے مسلمان حکمرانوں کی خصوصی توجہ حاصل رہی۔ آل سعود خاندان کے برسراقتدار آنے کے بعد مسجد حرام اور حرم مکی کی جس تسلسل کے ساتھ خدمت کی گئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

مملکت سعودیہ کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود اوران کے بعد ان کےفرزاندان نے حرم مکی توسیع اور اس کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ چنانچہ موجودہ سعودی حکومت کے ادوار میں مسجد حرام میں 7 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر کی توسیع کی گئی۔ اسلامی تاریخ میں یہ سب سے بڑی توسیع ہے۔

مسجد حرام میں توسیع کے اس غیرمعمولی عمل کے نتیجے میں مسجد میں ایک ہی وقت میں 30 لاکھ نمازیوں کی با جماعت نماز ادا کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی۔ فی گھنٹہ طواف کرنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کرتے ہوئے 1 لاکھ 5 ہزار زائرین کے ایک گھنٹہ میں طواف کعبہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

مسجد حرام کی توسیع کا موجودہ پروجیکٹ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں حرم مکی کی عمارت میں زیادہ سے زیادہ نمازیوں کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے مسجد میں توسیع کی گئی اور دو ملین افراد کی نماز کی گنجائش پیدا کی گئی۔

دوسرے مرحلے میں مسجد کے بیرونی احاطے اور صحن، راہ داریوں، سرنگوں اور طہار خانہ کی توسیع کی گئی۔

مسجد کی توسیع کا تیسرا اور آخری مرحلہ جاری ہے جس میں بعض مقامات کی توسیع کے ساتھ ساتھ بیت اللہ کی زیارت کو آنے والے فرزندان توحید کے لیے گرمیوں میں ٹھنڈک کا انتظام کرنے کے لیے مسجد کو ایئر کنڈیشن کرنے، بجلی کا نظام بہتر بنانے، فراہمی آب جیسے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ اسلامی تاریخ میں یہ حرم مکی سب سے بڑی توسیع ہے جس پرقریبا 80 ارب ریال کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔