.

حکومت پر تنقید غداری کے زمرے میں نہیں آتی : بھارتی عدالتِ عظمیٰ

حکومت مخالف تنقیدی بیان غداری یا ہتک عزت کے قانون کے تحت کوئی مستوجب سزا جرم نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے سنگین غداری یا ہتک عزت کے قانون کو اپنے مخالفین کے خلاف بے دریغ استعمال کرنے پر مودی سرکار کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور قرار دیا ہے کہ حکومت پر محض تنقید کی پاداش میں لوگوں پر غداری اور ہتک عزت کے مقدمات دائر نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کی ایک بنچ نے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ ''اگر کوئی شخص حکومت پر تنقید کے لیے کوئی بیان دیتا ہے تو یہ غداری یا ہتک عزت کے قانون کے تحت کوئی مستوجب سزا جرم نہیں ہے۔ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ تعزیرات ہند کی شق 124 (اے ) کے اطلاق کے لیے عدالت کے ماضی کے ایک فیصلے میں وضع کردہ بعض رہ نما اصولوں کی پیروی کرنا لازمی ہے''۔

گذشتہ ماہ بھارتی حکومت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارتی شاخ اور ایک معروف اداکارہ رمیا کے خلاف سنگین غداری کے مقدمات دائر کیے تھے۔ایمنسٹی نے بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ایک مذاکرے کا انعقاد کیا تھا۔اس دوران وہاں کسی شخص نے مبینہ طور پر کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔

اداکارہ رمیا نے بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکار کے پاکستان مخالف بیان کی مخالفت کی تھی۔بھارتی وزیر نے پاکستان کو ایک ''جہنم'' قرار دیا تھا۔اس کے ردعمل میں اداکارہ نے کہا تھا کہ ''میں احترام سے اس سے اتفاق نہیں کرتی ہوں اور پاکستان ایک جہنم نہیں ہے''۔

قبل ازیں بھارت میں بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان اور متعدد کشمیری طلبہ کے خلاف بھی سنگین غداری کے مقدمات دائر کیے جاچکے ہیں اور ان سے متعلق خبریں بین الاقوامی میڈیا میں شہ سرخیاں بنی تھیں۔

بھارتی اخبار ہندو میں منگل کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ میں ایک این جی او کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن پیش ہوئے تھے اور انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ غداری ایک سنگین جرم ہے۔اس سے متعلق قانون کا مخالفین کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جارہا ہے۔

بنچ نے برسوں پرانے ایک مقدمے کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے:''ہم غداری کے قانون کی وضاحت نہیں کرتے ہیں۔اس کی وضاحت پہلے ہی پانچ ججوں پر مشتمل دستوری بنچ کے 1962ء کے کیدار ناتھ سنگھ بنام ریاست بہار کے فیصلے میں موجود ہے''۔

بنچ نے اپنے فیصلے میں این جی او کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ ''آپ کو الگ سے ایک درخواست دائر کرنا ہوگی جس میں غداری کے قانون کے کسی بھی سطح پر غلط استعمال کو اجاگر کیا جائے اور کسی خاص کیس کا حوالہ دیا جائے کیونکہ اس میں کوئی تعمیم نہیں ہوسکتی''۔

این جی او نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ دانشوروں ،کارکنان اور طلبہ کے خلاف دائر کیے جانے والے غداری کے مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اب ایمنسٹی انڈیا کے خلاف کشمیر کے بارے میں ایک مباحثے کے انعقاد پر غداری کے الزام میں مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق بھارت میں صرف 2014ء میں غداری کے 47 مقدمات دائر کیے گئے تھے اور ان کیسوں سے تعلق کے الزام میں 58 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن حکومت اب تک صرف ایک شخص کو قصور وار قرار دلوا سکی ہے۔

این جی او نے کارکنان کے خلاف غداری کے الزام میں دائر کیے جانے والے متعدد مقدمات کا حوالہ دیا ہے۔ان میں معروف لکھاری اور انسانی حقوق کی علمبردار ارون دھتی رائے کے خلاف 2010ء میں کشمیر میں ریاست مخالف مبینہ بیان پر دائر کردہ مقدمہ بھی شامل ہے۔

ان کے علاوہ کارٹونسٹ اثیم ٹریویڈی کے خلاف 2012ء میں اپنے کارٹونوں کے ذریعے ملک کی مبینہ توہین کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔معروف ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے علمبردار بنیاک سین ،جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار اور ایک یونیورسٹی پروفیسر ایس اے آر گیلانی کے خلاف ملک سے غداری کے الزام میں مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔