آٹھ چینی باشندے سالم بھیڑ،20 بوتل شراب ڈکارگئے، قصہ کیا ہے؟

فلسطینی ریستوران میں 8 افراد کے کھانے کا بل 4400 ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ان دنوں فلسطین کے ایک ریستوران کا تذکرہ چین، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ "ابوغوش" نامی ہوٹل کی تازہ عالمی شہرت کی وجہ آٹھ چینی باشندوں کا ایک کھانا بنا ہے جس کے عوض انہوں نے ہوٹل کے مالک کو 4400 ڈالر ادا کیے۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر یہ کہانی مبالغہ آرائی کے ساتھ گردش کررہی ہے کہ آٹھ افراد پوری بھیڑ کھا گئے اور ساتھ ساتھ دو درجن شراب کی بوتلیں بھی پیتے چلے گئے۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں جب "ابو غوش" نامی فلسطینی قصبے میں اسی نام سے قائم ہوٹل کا چرچا ہونے لگا تو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی بیت المقدس سے 15 کلو میٹر کی مسافت پرایک اونچے ٹیلے پر واقع اس ہوٹل کی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ ہوٹل کے مالک جودت ابراہیم سے ٹیلیفون پربات چیت ہوئی۔ انہوں نےچینی باشندوں کے کھانے کے بل کی تصدیق کی اور کہا کہ آٹھ چینی باشندوں نے قریبا ایک دن تک نصف ہوٹل بُک کرایا تھا۔ انہوں نے ایک روز قبل ہی آرڈر جاری کیا کہ ان کے لیے ایک بھیڑ کا انتظام کیا جائے۔ آرڈر کے مطابق آٹھ چینی باشندوں اور ان کی اسرائیلی مترجم کے لیے بھیڑ جس کا وزن 30 کلو گرام تھا منگوائی گئی تھی۔ یہ لوگ کئی گھنٹے اس ریستوران میں موجود رہے۔ واپسی پرانہوں نے 16500 شیکل کی رقم بہ خوشی اور شکریے کے ساتھ ادا کی۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم چار ہزار چار سو ڈالر کے مساوی ہے۔

آٹھ چینی باشندوں کی ایک ہوٹل میں 30 کلو کی بھیڑ کھانے کا چرچا یورپی ذرائع ابلاغ میں بھی کیا گیا مگراسے مبالغہ آرائی دی گئی۔ یہ کہا گیا کہ آٹھ چینی 30 کلو گوشت کھا گئے۔ یعنی ایک شخص پونے چار کلو گوشت کھانے کے ساتھ ساتھ شراب کی کئی بوتلیں بھی پی گیا۔ ابو غوش ہوٹل کے مالک جودت ابراہیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ چینی باشندوں کے ہوٹل میں قیام وطعام کو مبالغہ آرائی دی گئی ہے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آرڈر کے مطابق تیس کلو کی ایک بھیڑ خرید کی گئی تھی مگر اس کا خالص گوشت صرف 15کلو نکلا۔ اس میں سے بھی 10 کلو گوشت چینی سیاحوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹلیفون پر بات کرتے ہوئے ہوٹل کے مالک جودت ابراہیم نے بتایا کہ ان کے ریستوران پر چین کی چھ اہم شخصیات اور ان کے دو چینی سیکیورٹی گارڈ آئے۔ ان کے ہمراہ ایک اسرائیلی مترجمہ بھی تھیں۔ وہ سب کاروباری شخصیات تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ابراہیم سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ وہ اہم شخصیات تھیں تو انہوں نے بتایا انہوں نے اس بات سے اندازہ لگایا کہ چینی باشندوں نے آدھا ریستوران بک کرا یا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ اس ہوٹل پر سربراہان مملکت، وزراء اور عالمی مشاہیر آتے رہتے ہیں۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کے عرصے کے دوران عالمی وفود بھی یہاں آتے اور کھانا کھاتے رہے ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں جودت ابراہیم نے کہا کہ ان کے ہوٹل پرکھانا کھانے والوں میں چین سے امریکا تک لوگ آتے ہیں۔ وہ زیادہ تر لبنانی کھانے انتہائی مناسب نرخوں پر فراہم کرتے ہیں۔ان کا معیار بھی بہت اچھا رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس ہوٹل کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ جودت ابراہیم خود تو فلسطینی ہیں مگران کی اہلیہ چینی اور تائیوانی نژاد ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کی طرف سے یہ بھی مشہور کیا گیا کہ چینی باشندے نہ صرف ایک سالم بھیڑ کھا گئے بلکہ شراب کی دو درجن کے قریب بوتلیں بھی پی گئے۔ جب یہی سوال جودت ابراہیم سے پوچھا تو انہوں نے کہا ایسا ہرگز نہیں۔ انہوں نے ہم سے "ّووڈکا" مارکہ نامی شراب کی 20 بوتلیں مانگی تھیں مگر اس میں سے صرف چار بوتلیں انہوں نے استعمال کی تھیں۔ ہم نے ان کے سامنے میزوں پر 30 سے چالیس کے قریب پلیٹیں رکھی تھیں جن پر لبنانی اور فلسطینی کھانے مقبلات، مازات، فرائی گوشت، محاشی، حمص، بابا غنوش، فول، نقانق اور سلطات رکھے۔ آخر میں انہیں پھل اور سویٹ ڈش بھی پیش کی گئی تھی۔ اس طرح ان تمام کھانوں کا مجموعی بل 15 ہزار اسرائیلی شیکل بنا، اس میں 10 فی صد سروس چارچز شامل کئے گئے جس کے بعد کھانے کا کل بل 16500 شیکل ہوگیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ابو غوش پر کھانا کھانے والی مشاہیر شخصیات میں سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز بھی شامل ہیں۔ وہ ایک بار اپنی پوری کابینہ کے ہمراہ ہوٹل پر کھانا کھانے آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں