.

کیا آپ نے کبھی مسیحی استاد کو قرآن حفظ کراتے ہوئے سُنا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے جنوبی صوبے المنیا کے گاؤں طہنا الجبل میں ایک ہوش اڑا دینے والی کہانی منظرعام پر آئی ہے جس کا آغاز 50 برس سے بھی قبل ہوا تھا۔ اس کہانی کا مرکزی کردار قبطی مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والا 85 سالہ "عياد شاكر حنا" ہے جو پیشے کے طور پر گاؤں میں قرآن کریم اور انجیل حفظ کرواتا ہے۔ عیاد گاؤں کے مسلمان بچوں کو قرآن حفظ کرانے کے علاوہ اپنے گھر میں ریاضی اور عربی زبان کی تعلیم بھی دیتا ہے۔

والد کے ہاتھوں پورا قرآن کریم حفظ کیا

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عیاد نے بتایا کہ اس نے یہ پیشہ اپنے باپ سے ورثے میں حاصل کیا۔ عیاد نے اپنے باپ سے پورا قرآن کریم حفظ کیا جو مختلف مواقع اور جنازوں میں مسلمانوں سے خطاب کرتا تھا۔ وہ اپنی تقریروں میں قرآن کریم کی آیات اور انجیل کے اقباسات کو حوالہ پیش کرتا تھا اور اس طرح بین المذاہب رواداری کو باور کراتا تھا۔ باپ کی وفات کے بعد عیاد نے یہ ذمہ داری سنبھال لی۔

عیاد کا کہنا ہے کہ اس سے قرآن کریم ، ریاضی اور عربی پڑھنے والے بچے اب ڈاکٹر ، انجینئر اور دواساز وغیرہ بن چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بہت پہلے اس کو سرکاری مدرس کے طور پر مقرر کیے جانے کی پیش کش بھی ہوئی تھی اور اس زمانے میں سرکاری ملازمت کرنے والے کو "آفندی" کا خطاب دیا جاتا تھا جس کی سماجی طور پر بڑی قدر ہوتی تھی۔ تاہم عیاد نے باپ کا پیشہ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور اپنی ذمہ داری سر انجام دیتا رہا۔

عیاد کا کہنا ہے کہ 20 برس کی عمر سے شروع ہونے والے اس 65 سالہ طویل سفر کے دوران اس نے گاؤں کے 1800 بچوں کو قرآن کریم حفظ کرایا۔ اس تمام عرصے میں گاؤں کے باسیوں کی جانب سے اس کو مکمل احترام ملا اور وہ اس کو معلم کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کو تمام سماجی تقریبات میں دعوت دی جاتی ہے اور اکرام کے طور پر پہلی صفوں میں بٹھایا جاتا ہے۔

گاؤں کے شیوخ اپنے بچوں کو لے کر آتے ہیں

عیاد کے قول کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ گاؤں کے مسلمان شیوخ اپنے بچوں کو اس کے پاس قرآن حفظ کروانے کے لیے لاتے تھے اور پھر حفظ کی تکمیل کے بعد عیاد کو بڑے سے حجم کا قرآن کریم اور تفسیر اور احکام تلاوت سے متعلق کتابیں بطور ہدیہ دی جاتی تھیں۔ عیاد کے مطابق چرچ میں یا اپنے گھر میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتے ہوئے اس کو کبھی کسی غیرمانوس موقف یا کسی قسم کی تنقید کا سامنا نہیں ہوا۔

عیاد نے اس امر کی تصدیق کی کہ اس نے قرآن کریم اور انجیل کو مکمل طور پر حفظ کیا۔ اپنے کام کے دوران قبطی اپنے مسلمان ساتھیوں کی تلاوت کو غور سے سنتے اور اسی طرح مسلمان بھی انجیل کو سنا کرتے تھے۔

عیاد کے بیٹے ناجح نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اس کے باپ نے اپنی پوری زندگی گاؤں کے بچوں کو تعلیم دینے میں گزار دی۔ ان میں بعض لوگ مختلف شعبوں میں اعلی منصبوں پر فائز ہونے کے بعد بھی مختلف مواقع پر عیاد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ملاقات کے لیے آتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پوتوں اور نواسوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ ناجح کے مطابق اس کے باپ کی صحت عمر کی وجہ سے بہت بگڑ چکی ہے تاہم پھر بھی وہ اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ ناجح کے کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی تقریبا 50 مسلمان بچے اور 40 مسیحی بچے عیاد کے پاس اپنی مقدس کتابیں حفظ کر رہے ہیں۔

نسل در نسل علم کا حصول

گاؤں کے میئر ڈاکٹر عمرو حسن رياض نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اس نے عیاد کے ہاتھوں تعلیم حاصل کی جب کہ ڈاکٹر عمرو کے والد جو کہ سابق میئر تھے انہوں نے عیاد کے والد کے ہاتھوں تعلیم حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر عمرو کے مطابق وہ بچپن میں چرچ میں جا کر قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے تھے جہاں چھوٹے مسلمان بچوں کو کم سنی میں ہی ان کے دین کی بنیادی تعلیمات ، عربی زبان کے بنیادی اصول اور ریاضیات کی تعلیم دی جاتی تھی۔ انہوں نے باور کرایا کہ گاؤں کے جن بچوں نے اس چرچ میں تعلیم حاصل کی اس کے سینے میں اپنے قبطی بھائیوں کے لیے نفرت کا ذرہ بھی نہیں ہو سکتا اور یہ معاملہ ان قبطیوں کا ہے جو ہمارے ساتھ سبق کے حلقوں میں شریک ہوتے تھے۔

بالائی مصر کے مختلف دیہات میں پھیلا ہوا تجربہ

گاؤں کے میئر نے اس امر کی تصدیق کی کہ مسیحی راہب کا یہ تجربہ صرف ان کے گاؤں میں ہی موجود نہیں بلکہ بالائی مصر کے اکثر دیہات میں پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عمرو نے واضح کیا کہ ان کے گاؤں کی اکثریت تقریبات میں اپنے قبطی بھائیوں کو دعوت دیے بغیر نہیں رہتی اور یہ ہی معاملہ قبطیوں کی جانب سے بھی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسجد اور چرچ میں تعلیم حاصل کی اور وہ بھی ایک مسیحی کے ہاتھوں جس سے دنیا بھر کے سامنے بین المذاہب رواداری اور مصر کے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان محبت کا خالص نمونہ سامنے آتا ہے۔