.

سعودی وزراء ہفتے میں کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں؟

’ویژن 2030‘ کی کامیابی کے لیے سعودی حکام دن رات سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت میں شامل وزراء اور دیگر افسران کی شبانہ روز محنت اور ویژن 2030ء کی کامیابی کے لیے جاری کوششیں عالمی سطح پر زیربحث آنے لگی ہیں اور سعودی وزراء کی محنت کو دنیا بھر میں ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں بھی سعودی وزراء کی دن رات محنت اور کام میں ان کی لگن کے چرچے ہیں۔ اس ضمن میں معروف امریکی سفارت کار ڈینس روس کا اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ میں مطبوعہ ایک حالیہ مضمون کافی اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جب سے سعودی حکومت نے ویژن 2030ء کا اعلان کیا ہے تب سے وزراء کے کام کی رفتار پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ وزراء اور سرکاری محکموں کے افسران اب چوبیس گھنٹے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی سفارت کار نے سعودی حکومت کے ارکان کی شبانہ روز محنت کو شہد کی مکھیوں کی دن رات محنت شاقہ سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ ریاض حکومت ویژن ’2030ء‘ کے اہداف کے حصول کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔

ڈینس روس کا کہنا ہے کہ میں نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں حکومتی وزراء کے کام کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ سعودی وزراء ہفتے میں 80، 80 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ وزراء کرام اور دیگر افسران کی طرف سے حکومتی کاموں کو ہنگامی حالات سے زیادہ وقت دیا جا رہا ہے۔ سعودی وزراء اور دیگر حکام کی طرف سے دن رات کام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ویژن 2030 جلد کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچے گا اور اس کے اہداف ومقاصد آسانی سے حاصل کیے جاسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی وزراء ہفتے میں 80 گھنٹے اور یومیہ قریبا 11 گھنٹے سے زیادہ وقت کام کرتے ہیں۔ ہفتہ وار چھٹی کےایام میں بھی وزراء کام جاری رکھتے ہیں اور بعض اوقات چھٹی کے دن بھی 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

امریکی سفارت کار کے مذکورہ مضمون سے قبل بلومبرگ خبر رساں ایجنسی نے ایک تصویر شائع کی تھی جس میں نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو غیرسرکاری لباس میں ایک دفتر میں بیٹھے کام کرتے دکھایا گیا تھا۔ ان کے گرد فایلوں کاایک انبار دکھایا گیا اورانہیں غیر روایتی انداز میں اپنے کام میں منہمک دکھایا گیا تھا۔