.

’ایک تار جس نے امریکی ڈرائیور کی زندگی بچالی‘

ساتویں منزل سے کار سمیت گرنے والا امریکی معجزانہ طور پر محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘ کا محاورہ ایسے ہی مواقع کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کوئی شخص موت کے منہ میں جاتے جاتے کسی خدائی معجزے کے نتیجے میں بچ جائے حالانکہ اس کے زندہ بچنے کا امکان بالکل بھی نہ ہو۔ ایسا ہی ایک واقعہ امریکا میں حال ہی میں پیش آیا جب ایک کثیرالمنزلہ عمارت کی ساتویں منزل سے ایک کار جنگلا توڑ کرنیچے گرنے لگی تو گرتے گرتے جنگلے کی ایک تار میں الجھ کر ہوا میں معلق ہو گئی۔ اس طرح اس کار میں سوار امریکی ڈرائیور کی زندگی معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ حیران کن واقعہ امریکی ریاست ٹیکساس کے اوسٹن شہر میں ایک کار شوروم میں پیش آیا۔

امریکی پولیس نے حادثاتی طور پربچ جانے والے ڈرائیورکی عمر چوبیس سال بتائی ہے تاہم اس کے بارے میں مزید کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کار فلیٹ کے گیراج میں کھڑی تھی۔ ڈروائیور نے اسے تھوڑا پیچھے ہٹانے کے لیے اسٹارٹ کیا۔ کسی فنی خرابی کے باعث کار پیچھے ہٹاتے ہوئے مسلسل چلتی گئی اور تاروں کا جنگلہ توڑ کر نیچے گرنے لگی۔ اس دوران جنگے کی ایک تار کار کے پہیوں میں الجھ گئی جس نے کار کو ہوا میں معلق کردیا۔

اوسٹن سے نشریات پیش کرنے والے KXAN ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ڈرائیور دو گھنٹے تک کار میں ہوا میں معلق رہا۔ اس دوران پولیس اور شہری دفاع کی ریسکیو ٹیموں نے رسے باندھ کر اسے وہاں سے نکالا۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ڈرائیور کے اعصاب شل ہوچکے تھے تاہم اسے معمولی خراش تک بھی نہیں آئی ہے حالانکہ الٹنے کے بعد کار نے متعدد قلا بازیاں بھی کھائی تھیں۔

حادثے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے جنہوں نے ڈرائیور کو بہ حفاظت کارسے نکالنے پر شہری دفاعی کے امدادی عملے کی تعریف کی اور ساتھ ہی ساتھ ڈرائیور کو بھی اس کی زندگی بچ جانے کی مبارک باد پیش کی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کار’’ٹیوٹا 4 رنر‘‘ ماڈل کی بتائی جاتی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گیراج کے بیرونی حصے میں پانچ تاروں سے جنگلا بنایا گیا تھا۔ کار تین تاروں کو توڑتی ہوئی نیچے لٹک گئی۔ دو ٹن وزنی کار دو گھنٹے تک ایک تار کے سہارے لٹکی رہی۔ بعد ازاں کرین کی مدد سے کار کو اتارا گیا۔