.

عراقی نژاد یہودیہ ’داعش‘ کے لیے پیغام موت کیسے بنی؟

’’SITE ‘‘ کی بانی ریٹا دہشت گردوں کی حساس معلومات کیسے حاصل کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویسے تو امریکا سمیت دنیا بھر کے سراغ رساں ادارے رات دن دہشت گردوں بالخصوص دولت اسلامی عراق وشام’داعش‘ سےوابستہ جنگجوؤں کا کھوج لگانے اور شام وعراق میں ان کے خفیہ مقاصد وامرکز تک پہنچنے کے لیے منصوبے بناتےہیں مگر امریکا میں مقیم ایک عراقی نژاد یہودیہ دنیا کے تمام سراغ رساں اداروں سے طاقت، زیادہ ہوشیار اور دہشت گردوں کے لیے ’سی آئی اے‘ اور ایف بی ائی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس چونکا دینے والی کہانی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ ’داعش’ کے لیے پیغام موت بننے والی یہ خاتون کون ہیں؟ کہاں رہتی ہیں اور یہ دہشت گردوں کے اندر کی خبریں کیسے حاصل کرتے ہوئے خود دہشت گردوں سے بھی پہلے شائع کرکے عالمی خفیہ اداروں اور داعش کو ورطہ حیرت میں ڈال رہی ہیں۔

داعش کے اندر کی معلومات تک رسائی رکھنے والی عراقی نژاد جاسوسہ’Rita Katz‘ [ریٹا کاٹز] کا تعلق عراق کے شہر بصرہ سے ہے۔ اس کے والد ایک یہودی تھے جنہیں مصلوب عراقی صدر صدام حسین کے دور میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 13 دیگر افراد کے ساتھ سزائے موت دی گئی تھی۔

ریٹا کاٹز کا سنہ پیدائش 1963ء کا ہے۔ وہ اس وقت امریکا میں مقیم ہیں۔ عربی اور انگریزی سمیت وہ چار زبانوں پر عبور رکھتی ہیں۔ ان کی وجہ شہرت کا پس منظر Search for International Terrorist Entities جسے اختصار کے ساتھ ’’SITE‘‘ لکھا جاتا ہے نامی ویب سائٹ کے بانی ہونے کے بعد حاصل ہوئی۔ جیسا کہ اس سائٹ کے نام سے ظاہر ہے سنہ 2002ء میں اس کے قیام کا مقصد دنیا بھر میں دہشت گردوں کی نقل وحرکت کی خبریں شائع کرنا تھا مگر تھوڑے ہی عرصے میں ریٹا کاٹز نے اپنی ہوشیاری کے سبب عراق وشام میں اپنا ایسا نیٹ ورک بنا لیا جس نے آگے چل کر دولت اسلامی’داعش‘ کے اندر گھس کردہشت گردوں کے بارے میں ایسی ایسی خبریں بھی بتا دیں جو دنیا کے بڑے بڑے سراغ رساں ادارے بھاری رقوم خرچ کرکے بھی حاصل نہیں کرپاتے تھے۔ یوں امریکی خفیہ اداروں CIA، FBI اور وائٹ ہاؤس سیکیورٹی سروسز کو بھی دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے مسز کاٹز سے رابطہ کرنا اور ان سے معاونت لینا پڑتی ہے۔

شام وعراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں کوئی بھی کارروائی ہو امریکی خفیہ ادارے فوری طور پر ریٹا کاٹز سے رابطہ کرتے اور اس کے نیٹ ورک کو متحرک کرکے اس واقعے کی تفصیلات حاصل کرتے ہیں۔

ریٹا کاٹز کے سراغ رساں نیٹ ورک کی کامیابیوں سے داعش سخت خوف زدہ ہے کیونکہ کاٹز ’’SITE‘‘ پر ایسی فوٹیج اور ویڈٰیوز بھی نشر کر دیتی ہے جنہیں ابھی داعش کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا ہوتا۔ اس کی تازہ مثال ایک حالیہ واقعے سے ملتی ہے۔ داعش نے پانچ زبانوں میں اپنا آن لائن جریدہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا مگر یہ خبر ابھی تک داعش سے وابستہ ابلاغی صحفات پر نہیں آئی تھی کہ ریٹا کاٹز نے اپنے خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے یہ خبر حاصل کرکے ’’سائٹ‘‘ پر چلا دی تھی۔

عراق وشام میں کسی بھی خودکش حملے، یا خودکش بمبار کی کارروائی کی تفصیلات ابھی داعش کی طرف سے جاری نہیں کی گئی ہوتیں کہ وہ تفصیلات ریٹا کاٹز کی سائٹ پر شائع ہو چکی ہوتی ہیں۔

ریٹا داعشیوں کا کیسے شکار کرتی ہے؟

عربی زبان پرعبور رکھنے والی عراقی نژاد یہودی خاتون ریٹا کاٹز سنہ 1968ء میں اپنی پیدائش کے چند سال تک عراق میں مقیم رہیں۔ سنہ 1968ء میں اس کے والد کو عراقی حکام نے حراست میں لیا اور اس پراسرائیل کے لیے جاسوسی کا مقدمہ چلایا گیا اور آخر کار صدام حسین کے دور میں ریٹا ک والد کو آٹھ دیگر یہویوں سمیت کل 13 افراد کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔

سنہ 2006ء میں امریکی جریدہ The New Yorker میں ریٹا کاٹز کے حوالے سے ایک اسٹوری شائع ہوئی تاہم اس رپورٹ میں اس کی کوئی تصویر شائع نہیں کی گئی۔ اس میں بتایا گیا کہ والد کی سزائے موت کے بعد ریٹا کاٹز کے خاندان کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا پورا خاندان گھر پرجبری نظربندی کا شکار ہوا۔ آخر کار تنگ آکر ریٹاکاٹز کی والدہ نے عراق چھوڑ کرایران جانے کا قصد کیا۔ کچھ عرصہ ایران میں قیام کے بعد وہ اسرائیل پہنچ گئی۔

کاٹز کی پروفائل پرنظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ اس نے تل ابیب یونیورسٹی سے تاریخ مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اسرائیل میں قیام کے دوران ہی ریٹا کاٹز کی شادی ایک میڈیکل ڈاکٹر سے ہوئی۔ شوہر کو امریکا میں طبی خدمات کا موقع ملا تو وہ ریٹا اور تین بچوں کو بھی واشنگٹن لے آیا۔ واشنگٹن میں اس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔

ریٹا کاٹز کے چہرے سے اپنے لوگوں کے سوا کوئی واقف نہیں تھا مگر ستمبر سنہ 2014ء کو جب داعش نے امریکی صحافی Stevem Sotloff کا سرقلم کیا تو اسے ذبح کیے جانے کی ویڈیو اس سے قبل کہ داعش کی طرف سے ریلیز کی جاتی ریٹا کاٹز کی SITE پر نشرہوچکی تھی۔ یوں ریٹا کاٹز نے اس واقعے سے عالمی شہرت حاصل کی اور اس کا چرچار دور دور تک کیا جانے لگا۔

جرمن ہفت روزہ El Mundo کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریٹا کاٹز کس طرح دہشت گردوں کے راز چوری کرتی ہیں۔ جریدہ لکھتا ہے کہ کاٹز کی کامیابی کا راز جاسوس نیٹ ورک ہے جس اسی کی طرح کئی زبانوں کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ایجنٹ عراق و شام میں ان علاقوں میں بہ کثرت موجود ہیں دولت اسلامی داعش کا سکہ چلتا ہے۔ وہ وہیں کے جنم پل ہیں اور ان کی رسائی داعش کے انتہائی اندر تک یعنی داعش کے گھر تک ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی متحرک رہتے ہیں۔

ریٹا کاٹز نے کچھ عرصہ قبلہ ایک کتاب تالیف کی جسے Terrorist Hunter کا نام دیا گیا۔ مگر اس کے مصنف کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ریٹا نے بتایا کہ اس نے یہ کتاب تالیف کی تھی۔ تحقیق بتاتی ہے کہ SITE کے نیوز ایجنٹوں کو افغانستان، عراق یا شام کی طرف سے سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ انٹرنیٹ کے اسلحے سے اپنے شکارپر وار کرتے ہیں۔ ریٹا کاٹز خود بھی متعدد مرتبہ بھیس بدل کر امریکا میں مساجد میں جا چکی ہیں۔ ایک بار وہ برقع اوڑھ کرامریکا میں ایک اسلامی تنظیم کے مرکز میں بھی آئی اس نے برقع کے اندر ریکارڈنگ کے آلات چھپا رکھے تھے۔