سعودی عرب : راکٹ گرینیڈ کی طرح نظر آنے والے "درخت" موضوع بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے صوبے قصیم کا ضلع "ضريّہ" کئی روز سے سوشل میڈیا پر وجہ بحث بنا ہوا ہے۔ یہ بحث ضریہ کی سڑکوں پر نمودار ہونے والے غیر روایتی "درخت" کی وجہ سے شروع ہوئی ہے، جو بعض منچلوں کے خیال میں کھلے میدان میں نصب کیے جانے والے راکٹ گرینیڈز (آر پی جی) معلوم ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ درخت نہیں بلکہ پلاسٹک کے ماڈل ہیں۔ مقامی بلدیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے ان کی تصاویر نشر کی ہیں۔ اس پر سوشل میڈیا کے حلقوں کی جانب سے تنقید اور تعریف کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

ضریہ جو کہ ضلع ہونے کے ساتھ شہر بھی ہے ، اس کی کل آبادی 20 ہزار ہے۔ گزشتہ سال سے اس کے میئر45 سالہ نايف عبدالحميد ابو سرداح ہیں۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے "درختوں" کو لگانے کی وجوہات بیان کیں جو رات میں روشن ہوجاتے ہیں اور دن میں حیرت کا مرکز بنتے ہیں۔

ضریہ کی بلدیہ کا کہنا ہے کہ قدرتی درختوں کے بدلے ان ماڈلوں کو لگانے کی وجہ " تنصیب کے علاقے میں پانی کی کمی ، نکاسی آب کا انتظام نہ ہونا اور بڑی تعداد میں اونٹوں اور بکروں کا ہونا ہے"۔

اس سے قبل مقامی بلدیہ نے ضلع / شہر میں رنگ برنگے پھولوں کے 20 ہزار سے زیادہ پودے لگائے تھے جن کی تین تصاویر یہاں دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے یہ سوال اٹھایا کہ پانی کی قلت کی صورت میں اتنی بڑی تعداد میں پودے کیسے لگ سکتے ہیں ؟ اس کے جواب میں میئر نایف ابوسرداح کا کہنا تھا کہ یہ پودے ضلع یا شہر کے اندر سڑکوں پر لگائے گئے ہیں تاہم جہاں تک مصنوعی درختوں کی بات ہے تو ان کی تعداد صرف 60 ہے۔ ان کو ضریہ سے 50 سے 60 کلومیٹر دور القصیم صوبے کے ضلع الرس میں دو مقامات پر لگایا گیا ہے۔

میئر ابوسرداح کے مطابق نصب کیے جانے والے درخت پلاسٹک کے نہیں بلکہ فائبر گلاس کے بنے ہوئے ہیں۔ یہ سعودی عرب کے مقامی کارخانے میں تیار کیے گئے ہیں اور تنصیب کے ساتھ ان پر آنے والی مجموعی لاگت 30 ہزار ریال (تقریبا 8 ہزار امریکی ڈالر) سے زیادہ نہیں۔ دو دوردراز شاہراہوں پر ان کو لگانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ گرمی کو برداشت کر کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کو مرمت ، دھلائی اور صفائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں روشنی کا بھی انتظام ہے اور یہ قدرتی درختوں سے بھی بے نیاز کرتے ہیں کیوں کہ علاقے میں پانی کی قلت ہے۔ ان ماڈلوں کے آر پی جی کے مشابہ ہونے کے حوالے سے میئر کا کہنا تھا کہ "یہ ماڈلز ہیں جو سڑک کو رات میں روشن کرتے ہیں اور دن میں خوب صورت نظر آتے ہیں.. اللہ (تنقید کرنے والوں کو) فرمائے"۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو یوٹیوب پر ملنے والی وڈیو میں ایک سعودی شہری ضریہ کی بلدیہ کا شکریہ ادا کر رہا ہے کہ بلدیہ نے کچرا جمع کرنے والے ورکروں کو سر پر پہننے والے ہیٹ اور چھتریاں فراہم کی ہیں جو ان کی موسم گرما کی شدید گرمی سے بچاتی ہیں۔

مصنوعی درختوں کے منصوبے کے متعلق سوشل میڈیا ویب سائٹس پر تنقیدی اور تعریفی دونوں قسم کے تبصرے سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں