پورا خاندان کھو دینے والی فلسطینی دوشیزہ کا فریضہ حج

عبیرابو جبر کے خاندان کے 19 افراد اسرائیلی دہشت گردی میں شہید ہوگئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مظلوم فلسطینی قوم کی دکھ بھری یادوں کا ایک پس منظر فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ بار بار کی جنگیں ہیں جن کے نتیجے میں ان گنت فلسطینی خاندان یا تو مکمل طور پر شہید ہوگئے یا ان کا کوئی ایک آدھ فرد ہی زندہ بچ پایا ہے۔ ایسے ہی ایک ستم رسیدہ فلسطینی خاندان کی جواں سال لڑکی عبیر ابو جبیر بھی شامل ہیں جس کے والدین اور بہن بھائیوں سمیت 19 افراد صہیونی فوج کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر شہید ہوچکے ہیں اور وہ اپنے خاندان کی اکلوتی اولاد بچی ہے۔

عبیر ابوجبر رواں سال خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی طرف سے حج کی خصوصی دعوت پر فریضہ عظیم کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس آئیں جہاں انہوں نے منیٰ میں قیام کیا۔ منیٰ ہی میں انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات چیت میں اپنی بپتا سنائی۔

عبیر ابو جبر نے بتایا کہ کس طرح اسرائیلی فوج نے ایک فضائی حملے میں اس کے پورے کے پورے خاندان کو شہید کرڈالا تھا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں ٹپکتی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے عبیر کی بار بار ہچکی بندھ جاتی۔ اس نے بتایا کہ "یہ 29 جولائی 2014ء کو عیدالفطر کی رات تھی اور غزہ کی پٹی میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ ہمارا پورا خاندان ایک سے دوسرے مکان میں منتقل ہوتا۔ میں ایک مکان میں میں تھی اور ساتھ والے مکان میں میرے والد، والدہ، تین تین بھائی، بہن، بھاوج، ان کے چار بچے، کزن، چچا اور ان کی اولاد سمیت کئی افراد رکے ہوئے تھے۔ اس دوران اسرائیلی کے ایک بمبار طیارے نے ساتھ والے مکان پر بم گرایا۔ بم گرتے ہی مکان ملبے کا ڈھیر بن گیا اوراس کا پورا خاندان ملبے تلے دب گیا۔ قریبا یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ کوئی مدد کو پہنچنے والا نہ تھا۔ جب کہ ملبے تلے دبے افراد کی مدد کے لیے مسلسل آہ وبکا سنائی دے رہی تھی۔ اگلی صبح تک کوئی انہیں بچانے نہ آسکا کیونکہ ہر طرف بمباری ہو رہی تھی اور کئی دوسرے مکان بھی بمباری کے باعث زمین بوس ہوچکے تھے۔

کئی گھنٹے گذر جانے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کی آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ وہ سب شہید ہوچکے تھے۔ دو ہفتے بعد ملبے تلےسے اس کی ایک بہن کو شدید زخمی حالت میں نکالا گیا جو اپنی یاداشت کھو چکی تھی‘‘۔

عبیر ابو جبراس المناک دہشت گردی کے واقعے کو پوری زندگی نہیں بھلا پائے گی۔ اس کا کہنا ہے کہ کاش میں بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہوتی۔ پورا خاندان شہید ہوگیا اور میں تنہا رہ گئی ہیں۔

خیا رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2014ء کے وسط میں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر وحشیانہ جنگ مسلط کی جس کے نتیجے میں 2000 سے زاید فلسطینی شہید اور 10 ہزار سے زاید زخمی ہوگئے تھے۔ اس دوران صہیونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں اجتماعی قتل عام کے کئی واقعات پیش آئے۔ انہی واقعات میں ایک واقعہ عبیر ابو جبر کے خاندان کا بھی شامل ہے۔

گذشتہ سات برس کے دوران صہیونی ریاست غزہ کی پٹی پر چار پرجنگیں مسلط کر چکی ہے۔ جن میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں اور اسیران کے لواحقین کو سرکاری حج اسکیم کے تحت ہرسال 1000 افراد کو حج کرانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین کی خصوصی حج اسکیم کے تحت اب تک 14 ہزار فلسطینی فریضہ حج ادا کرچکے ہیں۔

رواں سال کل 2400 فراد نے خادم الحرمین الشریفین کی خصوصی حج اسکیم کے تحت حج ادا کیا جن میں 1000 فلسطینی شہری بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں