.

ہم پانچ ملکوں میں فوجی نفوذ بڑھا رہے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ ان کا ملک پہلی خلیجی جنگ کے دوران حاصل کی جانے والی فوجی مہارت کو پانچ ملکوں بالخصوص یمن، شام، عراق، لبنان اور فلسطین میں اپنی فوجی دکھاک بٹھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ ایرانی آرمی چیف کے بقول ان کا ملک 'مزاحمت کا محور سمجھے جانے والے ملکوں' اپنا اثر ونفوذ بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔

ان خیالات کا اظہار جنرل محمد باقری نے عراق-ایران کی آٹھ سالہ جنگ کی 36 ویں سالگرہ کے موقع پر تہران میں ہونے والی فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریڈ کے دوران ایرانی آرمی چیف اور دیگر فوجی قیادت نے علاقے کے متعدد ملکوں اور خلیج میں موجود امریکی فوج کے خلاف عسکری نوعیت دھمکیوں کا بتکرار اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران 'مزاحمت کا محور سمجھے جانے والے ملکوں' عراق، شام، لبنان، یمن اور فلسطین میں اپنا نفوذ بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔ ان کے بقول وہ تہران کو پہلی خلیجی جنگ کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کو ان ملکوں میں سرگرم طاقتوں تک منتقل کرنا چاہتا ہے۔

فوجی طاقت کم کرنے والوں پر تنقید

ایرانی فوجی سربراہ نے ملک کے اندر سے فوجی طاقت کو کم کرنے کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں انہوں نے ایران کو فوجی تیاریوں کو خیرباد کہتے ہوئے اقتصادی صورتحال پر توجہ دینے کا مشورہ دیا تھا۔

رفسنجانی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ایک خطاب میں کہا تھا کہ "مسلح افواج اور عسکری تیاریاں بھاری خرچے کی متقاضی ہیں، جنگ کی صورت میں انہیں مزید رقم درکار ہوتی ہے۔ اسی لئے بہت سے ملک بشمول جرمنی اور جاپان اب تعلیم، پیداوار اور ترقی میں اضافے کے لئے اپنا سرمایہ خرچ کر رہے ہیں۔"

رفسنجانی کا مزید کہنا تھا کہ "ایران اس راستے پر چل پڑا ہے۔ حکومتی عہدیداروں پر لازم ہے کہ اس پہلو پرغور کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صدر حسن روحانی کی دوسری ٹرم میں یہ خواب پورا ہو گا۔ ایران فوجی طاقت پر بھاری رقوم خرچ کرنے کے بجائے ایک بہتر اقتصادی قوت بننے کی کوشش کرے گا۔

یاد رہے کہ ایران کے متشدد حلقے اور ان کے ہمنوا ذرائع ابلاغ رفسنجانی کو فوجی اخراجات کم کرنے اور ملکی وسائل کو تعلیم اور معشیت کی بہتری کے لئے وقف کرنے جیسے بیانات کے باعث تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایران کے فوجی بجٹ سے متعلق امسال اپریل میں جاری ہونے والی ایک مطالعاتی رپورٹ کے مطابق تہران اپنی فوجی صلاحیت میں بہتری کی مد میں سالانہ 6.3 ارب ڈالر صرف کر رہا ہے۔ یہ رقم ایران کے مجموعی بجٹ کا 34 فیصد بنتی ہے۔ ایران کے دفاعی بجٹ کا 65 فیصد پاسداران انقلاب پر صرف کیا جاتا ہے۔