.

الیکٹرک گاڑیاں.. تیل کی منڈیوں کا آئندہ آسیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقتصادی خبروں کے لیے مخصوص خبر رساں ایجنسی "بلوم برگ" نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کا بلندی کی طرف جانا تیل کی منڈیوں میں آئندہ بحران کا مرکزی سبب بنے گا۔ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں نے اس نوعیت کی گاڑیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافے کی تصدیق کی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت نے حالیہ برسوں میں انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔ اس نوعیت کی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں اعلی خوبیوں والی ایسی سواریاں تیار کرنے میں کامیاب رہی ہیں جن میں کسی بھی قسم کے روایتی ایندھن کی قطعا ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی لاگت میں بڑی حد تک کمی آنے کے نتیجے میں ان گاڑیوں اور ان کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والی رقم بھی کم ہو گئی ہے۔

"بلوم برگ" کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران مذکورہ بیٹریوں کی قیمت میں 35% کمی آئی۔ ایجنسی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ چھ برسوں کے دوران الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا میں چھا جائیں گی اور پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی روایتی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی۔

"بلوم برگ" کے مطابق سال 2040 تک الیکٹرک گاڑی کی اوسط قیمت 22 ہزار ڈالر ہو جائے گی جو کہ مارکیٹ میں موجود نئی روایتی گاڑیوں کی قیمت کے مقابلے میں 35% کم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 2022 تک الیکٹرک گاڑی کی قیمت روایتی گاڑی کے برابر ہوجائے گی۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں غیرمسبوق اضافے کا آغاز ہوجائے گا اور یہ ان گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا۔

"بلوم برگ" نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی تین بڑی کمپنیوں "Tesla" ،

" Chevrolet" اور "Nissan" نے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے کہ بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کا آغاز اوسطا 30 ہزار ڈالر کی قیمت سے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دیگر کمپنیاں بھی اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر ہی ہیں اور اس سلسلے میں مزید سستی گاڑیاں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

"بلوم برگ" کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے جاری اضافے کے نتیجے میں محض آئندہ سات برسوں کے دوران یعنی 2023 تک تیل کی عالمی مانگ میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کمی آجائے گی۔ اس مقدار میں عالمی مانگ میں کمی آنے سے یقینی طور پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں حد تک کمی واقع ہوگی۔

گزشتہ برسوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے بالخصوص فی بیرل سو ڈالر کی قیمت تجاوز کرنے کے سبب الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو عالمی سطح پر انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی۔ 2014 کے آغاز میں تیل کی قیمتیں اچانک گرنا شروع ہوئیں اور چند ماہ میں تیس ڈالر فی بیرل کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ یاد رہے کہ 2013 میں فی بیرل قیمت 114 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔