.

زیادہ سونا خواتین کے لیے ذیابیطس سے تحفظ مگر مردوں کے لیے نقصان دہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالینڈ میں ہونے والے ایک طبی مطالعے کے نتیجے میں حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ مطالعے کے مطابق زیادہ سونے کا عمل خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تاہم مردوں کے لیے زیادہ سونا اس حوالے سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے ان کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مذکورہ تحقیقی مطالعے میں درمیانی عمر کے 800 مرد اور خواتین کے حالات کا جائزہ لیا گیا جس کا مقصد سونے کے عمل کا ذیابیطس کے مرض سے تعلق اور ربط متعین کرنا تھا۔

مطالعے کے دوران زیرنگرانی مرد اور خواتین کو ایک الکٹرونک آلہ دیا گیا جو سونے اور بیداری کے اوقات کے دوران جسم میں انسولین کے خارج ہونے کے عمل کا جائزہ لیتا تھا۔

مطالعے میں شامل افراد کو روزانہ اوسطا 7 گھنٹے اور 18 منٹ کی نیند پوری کرنے کا موقع دیا جاتا تھا۔ محققین نے یہ ملاحظہ کیا کہ جن خواتین کو روزانہ اس دورانیے سے زیادہ سونے کا موقع ملتا تھا ان کے جسموں میں انسولین کے ساتھ معاملے کی بہتر صلاحیت پیدا ہو گئی جو کہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔

دوسری جانب جسم کے انسولین کے ساتھ تعلق پر سونے کے عمل کے اثر انداز ہونے کے حوالے سے مردوں کا معاملہ خواتی سے یکسر مختلف رہا اور خواتین کے برخلاف اوسط دورانیے سے زیادہ سونے کے نتیجے میں مردوں کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا۔

ایمسٹرڈم میں(VU) مرکز کے طبی محقق ڈاکٹر ومکی روٹرز کے مطابق "جو مرد زیادہ سوتے ہیں یا کم سوتے ہیں تو ان کے جسم کے خلیے انسولین کے ساتھ کم ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ان کے جسموں میں ذیابیطس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں.. تاہم جہاں تک خواتین کا معاملہ ہے تو ان میں یہ معاملہ مختلف ہے"۔