.

ہوائی جہاز سے تیز ریل گاڑی چار سال کی دوری پر!

امارات میں فی گھنٹہ 1220 کلو میٹر سفر کرنے والی ٹرین کی تیاری پر کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹیکنالوجی کی ترقی نے ذرائع مواصلات میں بھی بے پناہ جدت اور ترقی کے راستے کھولے ہیں۔ ہوائی جہاز کو اب تک تیز رفتار سفری ذریعہ قرار دیا جاتا رہا ہے مگر اب زمین پر چلنے والی ریل گاڑیاں بھی اپنی تیز رفتاری میں جہازوں کو مات دینے لگی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 2020ء میں دبئی میں ایک نئی ٹرین سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی رفتار ہوائی جہاز سے بھی زیادہ ہوگی۔ ایک ہوائی جہاز اوسطا 700 سے 1000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے مگر مذکورہ ریل گاڑی 1220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گی۔

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے بھی اس تیز رفتار ذریعہ سفر پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دبئی سے الفجیرہ کے مقام تک ایک کار اوسط رفتار سے اڑھائی گھنٹے میں پہنچتی ہے جب کہ ریل گاڑی یہ سفر محض 10 منٹ میں مکمل کرلے گی۔

دُنیا کی تیز ترین رفتار کی حامل یہ ریل گاڑی اور اس کے ٹریک کی تیاری امریکی ریاست لاس اینجلس میں قائم کمپنی ‘ہائیپر لوپ ون‘ کا کمال ہے۔ سب سے پہلے اس منصوبے کا خاکہ ’ٹیسلا‘ کمپنی کے سربراہ ایلون موسک نے سنہ 2013ء میں پیش کیا تھا۔ اس کی فیزیبلٹی رپورٹ کی تیاری کے بعد جلد ہی اس پر کام شروع کیا گیا۔ یہ ریل گاڑی دبئی سے الفجیرہ تک 10 منٹ میں پہنچنے کی صلاحیت رکھے گی۔ ریاست دبئی کو متحدہ عرب امارات کے دوسرے علاقوں سے باہم مربوط کرنے والی یہ سب سے بڑی ریل سروس بھی قرار دی جا رہی ہے۔

دبئی کی تیز رفتار ریل سروس کے بارے میں سامنےآنے والی دیگر معلومات میں بتایا گیا ہے کہ یہ فی گھنٹہ 760 میل یعنی 1220 کلومیٹر کی رفتار سے فراٹے بھرتی چلے گی۔ یوں اس کی رفتار ہوائی جہاز سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ ہوائی جہازوں کی رفتار 700 سے لے کر 1000 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

موسک نے دبئی میں تیز ترین رفتار کی ٹرین سروس کے لیے لیے ہائپر لوپ ون اور ہائپر لوپ ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز‘ دونوں سے مشترکہ طور پر کام پر زور دیا تھا۔

ٹیسلا کمپنی الیکٹرک کاروں کی تیاری کی دنیا کی سب سے مقبول اورمشہور کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی تیز رفتاری، لاگت میں کمی اور معیار کی بہتری میں بھی یہ کمپنی سب سے آگے ہے۔

ناقابل یقین حد تک تیزی رفتار ٹرین کی تیاری کے بعد نہ صرف متحد عرب امارات بلکہ دوسرے عرب ملکوں کے درمیان بھی گھنٹوں کی سفری مسافت منٹوں میں سمٹ جائے گی۔ یہ ٹرین ابو ظہبی سے قطر کے دارالحکومت دوحہ تک صرف 22 منٹ میں فاصلہ طے کرے گی۔

دبئی فیوچر فاؤںڈشین کے چیئرمین نے مذکورہ ریل گاڑی کی اہمیت پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی۔’ فرض کریں آپ کی رہائش ریاض [سعودیہ] میں ہے اور آپ دبئی میں ملازمت کرتے ہیں۔ شام کا کھانا آپ ابو ظہبی میں کھاتے ہیں اور اس کے بعد آپ فلم دیکھنے قطر جاتے ہیں۔ یہ سارا سفر اس ریل گاڑی کے ذریعے ایک دن میں ممکن ہوگا۔