.

اس خبر کو پڑھنے کے بعد مُسکراتے رہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسی زبان جس کو کرہ ارض پر تمام لوگ سمجھتے ہیں ، جو قدرتی طور پر آسانی سے تحریر کر دی جاتی ہے ، یہ روح کو مسرور کر دیتی ہے اور انسان کے اندر مثبت توانائی بھر دیتی ہے۔ یقینا یہ زبان "مسکراہٹ" ہے جس کا عالمی دن ہر سال اکتوبر کے مہینے میں پہلے جمعے کو منایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں منایا جانے والا یہ واحد دن ہے جس کا تعلق انسانی چہرے کے اظہار سے ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ مسکراہٹ سے قلبی احساسات منتقل ہوتے ہیں اور یہ مسرت کا اظہار کرتی ہے بلکہ یہ انسانی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔

مسکراہٹ کے عالمی دن کو منانے کا پس منظر 1963 سے وابستہ ہے۔ امریکا کی ایک انشورنس کمپنی"State Mutual Life Assurance Company of America" نے ایک فن کار ہاروے بال سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ ایک ایسا لوگو تیار کرے جو ملازمین کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں کمپنی کی مدد کرے۔ اس کے نتیجے میں ہاروے نے زرد رنگ کے مسکراتے چہرے "Smiley Face" کا لوگو پیش کیا۔

اس لوگو نے کامیابی کے حوالے سے تمام تر توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بعد ازاں یہ لوگو قیمضوں، ٹوپیوں، غلافوں ، ڈاک ٹکٹوں اور ماچس کے ڈبے پر بھی نمودار ہو گیا۔ یہاں تک کہ امریکا کے ڈاک ادارے نے اس لوگو کے ساتھ ایک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

مسکراہٹ کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1999 میں منایا گیا۔

مسکراہٹ کے فوائد

چہرے کا ایک تاثر جو منہ کے دونوں جانب کے نزدیک واضح ترین پٹھوں کو موڑنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ خون کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے ، خون کی گردش کو سرگرم کرتا ہے اور نفسیاتی بیماریوں اور دباؤ کے خلاف جسم کی مدافعت کو بڑھاتا ہے۔ علاوہ ازیں دل ، جسم اور دماغ کے عمل پر اس کا مثبت اثر ہوتا ہے۔

مسکرانے والے شخص کی نبض متوازن رہتی ہے ، مسکراہٹ سے اندرونی سکون اور طمانیت کا احساس رہتا ہے اور چہرے کی دلکشی اور خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔

مسکراہٹ حالیہ زمانے کے امراض کے انسدادی علاج کی ایک قسم ہے۔ ان میں تشویش ، نامرادی ، سر درد کی بہت سی اقسام ، بے خوابی اور پژمردگی شامل ہیں۔

مسکراہٹ سے دماغ کے اندر آکسیجن کی وافی مقدار برقرار رہتی ہے اور یہ اعصابی تناؤ کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بار بار مسکرانے سے انسان خود کو ہلکا پھلکا اور آرام کی حالت میں محسوس کرتا ہے۔ سائنس دانوں نے تو یہاں تک باور کرایا ہے کہ مسکراہٹ سے انسان کو درپیش مایوسی کی حالت کم ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں مسکراہٹ اور ہلکی پھلکی ہنسی پٹھوں کو آرام کی حالت میں لے جانے اور شریان کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مفید ہیں۔

مسکراہٹ ہمارے اندر مسرت پھیلا دیتی ہے اور پھر چہرہ ایک مرتبہ پھر روشن ہو جاتا ہے۔

بہت سے ڈاکٹروں نے مریض کے شفایاب ہونے میں مسکراہٹ کے کردار کو نوٹ کیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض محققین نے یہ تک کہنا شروع کر دیا کہ معالج کی مسکراہٹ علاج کا ایک حصہ شمار کیا جاتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ جب آپ اپنے دوست ، بیوی ، پڑوسی یا کسی بھی دوسرے شخص کو مسکراہٹ کا تحفہ پیش کرتے ہیں تو یقینا آپ اس شخصیت کو بنا محسوس کیے شفایابی کا ایک مفت نسخہ فراہم کر رہے ہیں۔

اگر محبوب کے لیے مسکرایا جائے تو وہ راحت محسوس کرتا ہے ، اگر مسکراہٹ دشمن کے واسطے ہونٹوں پر سجائی جائے تو اس کو ندامت کا احساس ہوتا ہے اور اگر یہ ایسے شخص کے لیے بکھیری جائے جس کو آپ نہیں جانتے تو یہ دلوں میں داخل ہونے کا پاسپورٹ بن جاتی ہے۔

تو پھر آپ اس مسکراہٹ کو اپنے چہرے پر سجا رہنے دیجیے.. صرف آج نہیں بلکہ ہر روز !