.

امریکا : بیت الخلاء منفرد پولنگ بوتھ میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شمال مشرق میں واقع ریاست نیو ہیمپشائر کے ایک قصبے ایش لینڈ میں ایک کسان نے اپنے فارم میں موجود بیت الخلاء کو آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ بوتھ میں بدل ڈالا۔

امریکا کے انتخابی سیزن میں جاری واقعات سے نالاں کسان کرس اووینز امیدواروں کے درمیان اس اعصابی جنگ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں۔

فارم میں فرضی پولنگ بوتھ کے بارہ ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مصنوعی ڈمی بنا کر رکھی گئی ہیں اور ڈرامائی منظر میں ان کو بیت الخلاء کے استعمال کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بیت الخلاء کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے اور بعض پلے کارڈز پر تحریر ہے کہ صرف 16 برس سے زیادہ عمر کے افراد ووٹ ڈال سکتے ہیں جب کہ دو عدد کموڈ پر تیر کا نشان لگا کر ہدایت دی گئی ہے کہ اپنا ووٹ اس کے اندر ڈالیے۔

کرس اووینز نے نیوہیمپشائر کے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "انتخابی بیت الخلاء" کو عوام کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور لوگ اس فرضی پولنگ بوتھ کی تصاویر لینے کے لیے رک جاتے ہیں۔ بعض تو ہنستے ہوئے اس میں اپنا ووٹ بھی ڈال دیتے ہیں۔ اس دوران صحافی حضرات وہاں ہونے والی سرگرمی کی جان کاری لیتے ہیں۔

اووینز کے مطابق اس نے پہلے سے سیکڑوں ووٹنگ کارڈ جمع کر لیے ہیں جن کو ڈال کر وہ طے کرے گا کہ ٹرمپ یا ہیلری میں سے کون جیتا ؟ !

اووینز نے واضح کیا کہ وہ ووٹنگ میں جلدی نہیں کرے گا.. اور اس کو 8 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے ساتھ ہی عمل میں لایا جائے گا تاکہ نتیجے کو دیکھا جا سکے۔ اووینز کا کہنا ہے کہ یہ سب محض لطف اندوزی کا سامان ہے۔