زرافہ ذبح کرنے والے سعودی کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افریقا میں شکار کے سفر کے دوران ایک زرافہ کو ذبح کرنے والے سعودی شہری راشد الہاجری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفگتو میں بتایا کہ زرافہ کا گوشت لذیذ اور ذائقے میں بھیڑ اور چھوٹے اونٹ کے گوشت سے زیادہ اچھا ہوتا ہے۔

الہاجری نے جن کی عمر 42 برس ہے بتایا کہ وہ رمضان المبارک سے ایک روز پہلے شکار کے سفر میں کینیا میں تھے۔ تنزانیہ کی سرحد کے نزدیک چلتے ہوئے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ایک زرافہ نظر آیا۔ الہاجری کے ساتھ پڑوس کے گاؤں کے بعض غریب مسلمان بھی تھے جنہوں نے اس زرافے کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت گاؤں میں غریب افراد کے درمیان تقسیم کرنے کی درخواست کی۔ الہاجری کے مطابق وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہم نے اس گوشت سے اپنے پاس آنے والے مہمانوں کے لیے رات کا کھانا تیار کیا۔

الہاجری کا کہنا ہے کہ اگر کوئی زرافہ کے گوشت سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے تو شکار کے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ زرافہ کم عمر ہونا چاہیے اور موسم فصل بہار ہو ، اگر یہ دونوں شرطیں پوری ہوجائیں تو یقینا گوشت مزے دار ہوگا۔ الہاجری نے زرافہ کے گوشت کو اپنے مصالحوں کے ذریعے شوربے کے طریقے سے تیار کرنے کی کوشش کی تاہم گاؤں کے باسیوں نے بتایا کہ یہ بھنا ہوا بہتر ہوتا ہے اور واقعتا جب اس کو بھون کر کھایا تو وہ کہیں زیادہ لذیذ تھا۔

الہاجری سعودی عرب کے مشرقی صنعتی شہر الجبیل میں کیمیکل کی ایک بڑی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق زرافہ کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھانا ایک نادر تجربہ تھا جس کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ الہاجری کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے حلقہ احباب میں شامل اکثر افراد نے ایک ہی سوال پوچھا کہ زرافہ کا گوشت حلال ہے یا حرام ؟ اور ہر بار وہ لوگوں کو اطمینان دلاتے رہے کہ میں صرف حلال گوشت ہی کھاتا ہوں۔

الہاجری نے انکشاف کیا کہ وہ اب بھی چھوٹے ہاتھی کے گوشت کا ذائقہ چکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ اس واسطے سفر شروع کرنے کے قریب تھے تاہم ان کے حالات اس خواب کو پورا کرنے کی راہ میں حائل ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی عمر میں چھوٹے ہاتھی کا گوشت کھانے میں زیادہ نرم ہوتا ہے اور ان کو یقین ہے کہ اس کا گوشت بھی کافی لذیذ ہوگا۔ الہاجری نے انکشاف کیا کہ وہ ہاتھی کے گوشت سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس پرمشقت ، خطروں سے بھرے اور کافی مہنگے شوق سے دست برداری کا اعلان کر دیں گے۔

الہاجری کے مطابق ان کے ایک دوست کو لگڑبھگے کے شکار اور اس کو کھانے کا شوق ہے۔ اس نے الہاجری کو آگاہ کیا کہ لگڑبھگے کا گوشت انسانی جسم میں خوابیدہ جنسی طاقت کو بھرپور انداز سے بیدار کر دیتی ہے۔ تاہم لگڑبھگے کے گوشت کی حرمت کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ مدینہ منورہ میں مسجد قباء کے امام شیخ صالح المغامسی اس کو حرام قرار دیتے ہیں۔ الہاجری کے مطابق مملکت میں حجاز سے تہامہ کے راستے جازان تک پھیلے پہاڑی علاقے میں بڑی تعداد میں لگڑبھگے پائے جاتے ہیں۔

الہاجری کا کہنا ہے کہ شکاریوں کا مشغلہ تین قسم کا ہوتا ہے۔ پہلے وہ شکاری جو اپنی طاقت اور سرگرمی کو ثابت کرنے کے لیے چیلنج کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ یہ جاں باز پہاڑوں پر چڑھتے ہیں اور موسم کی مشکل صورت حال کو برداشت کرتے ہیں۔ دوسری قسم میں ہوا میں گھوڑے دوڑانے والے غیر پیشہ ور شکاری ہوتے ہیں۔ یہ لوگ فضا میں اڑتے تیتر اور بطخوں کو شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں تک تیسری قسم کا تعلق ہے تو یہ تقریبا 90% شکاریوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

الہاجری نے باوراس امر کی تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات نے ان کو اخراجات کے ساتھ شکار کے سفر کی پیش کش کی جس میں الہاجری شکار کریں اور پھر یہ شخصیات شکاریوں کے لباس میں اسلحے کے ساتھ شکار کیے گئے جانوروں اور پرندوں کے ساتھ تصاویر بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں تاکہ ان دوست احباب متاثر ہوسکیں۔

الہاجری شکار کی غرض سے کرغستان ، سودان ، یمن ، کینیا ، مصر ، مراکش اور دیگر ممالک میں دور دراز علاقوں کا سفر کر چکے ہیں۔ اپنی زندگی کے مشکل ترین وقت کا ذکر کرتے ہوئے الہاجری نے بتایا کہ "ایک مرتبہ افریقہ کے جنگلات میں میرے ساتھی بچھڑ گئے۔ یہ علاقہ شیروں اور دیگر درندوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں شکار کی ٹیم کا قائد تھا اور میرے ہتھیار میں صرف دو گولیاں رہ گئی تھیں۔ اچانک مجھے فائرنگ کی آواز سنائی دی.. یہ میرے ساتھی تھے جو "چینی مرغی" پر گولی چلا رہے تھے۔ میں دوڑتے ہوئے آواز کی جانب گیا۔ انہوں نے مجھ سے روپوشی کا راز پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ یہ میرا طریقہ ہوتا ہے تاکہ ان کی طرف پرندوں کو بھیج سکوں"۔

الہاجری نے اپنی بے تکلفانہ بات چیت میں بتایا کہ وہ سعودی عرب کے النصر فٹ بال کلب کے مداح ہیں اور سابق اسٹار فٹ بالر ماجد عبداللہ کے پرستاروں میں سے ہیں۔

الہاجری یہ بتانا بھی نہیں بھولے کہ وہ سعودی فن کار خالد عبدالرحمن کی خصوصی شکاری ٹیم سے دو مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ تاہم اس دوران ان کی خالد سے ملاقات نہ ہو سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں