.

ہم شادی کی انگوٹھی مخصوص انگلی میں کیوں پہنتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ ایک سے دوسرے ملک میں شادی سے متعلق مختلف رسم و رواج پائے جاتے ہیں تاہم "انگوٹھی اور انگلی" ہر جگہ مشترکہ عامل ہیں۔ لہذا شادی کے بندھن میں بندھنے والوں کی شناخت جو بھی ہو انگوٹھی کا بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں پہننا ناگزیر ہے۔

آخر یہ مخصوص انگلی ہی کیوں ؟

ایسا نظر آتا ہے کہ انگوٹھی کا معاملہ بہت پرانا یعنی کہ 3000 سال قبل مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔ شادی کی انگوٹھی قدیم رومی عہد سے وابستہ ہے اور یہ مرد اور عورت کے ساری زندگی کے ساتھ کی علامت ہے۔ اسی واسطے یہ دائرے کی شکل میں ہوتی ہے یعنی کہ ایک مسلسل چکر کا حلقہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔

ایک دوسری تاریخی روایت کے مطابق قدیم مصری باشندوں نے سب سے پہلے شادی کی انگوٹھی کو دائمی ساتھ کی علامت کے طور پر استعمال کیا۔

شادی یا منگنی کی انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں پہننے کا تعلق قدیم یونانیوں سے ہے۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ایک خاص اعصابی رگ اس انگلی سے گزر کر براہ راست دل تک جاتی ہے جس کو "محبت کی رگ" کا نام دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ امر ایک دوسرے شخص کی جانب سے انسان کے دل کو قید کر لینے پر دلالت کرتا ہے۔