اقوام متحدہ کے نئے سکریٹری جنرل نے پہلے انٹرویو میں کیا کہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ تنظیم کے سکریٹری جنرل کے تقرر کے لیے جنرل اسمبلی کے اندر مکمل اتفاق رائے نظر آیا ہے۔

"الحدث" نیوز چینل نے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون کی جگہ منصب سنبھالنے والے آنتونیو گٹریس (پرتگال کے سابق وزیر اعظم) سے پہلا انٹرویو کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

نو منتخب جنرل سکریٹری گٹریس کا کہنا ہے کہ "گزشتہ دس برسوں کے دوران میں نے زمین پر کمزور ترین لوگوں کے مسائل اور تکالیف کو براہ راست دیکھا ہے۔ میں نے جنگ کے علاقوں اور کیمپوں کا دورہ کیا جس نے مجھے اس سوال پر مجبور کر دیا کہ انسان کی قدر و قیمت کو کیا ہو گیا ہے؟ اس طرح میں اپنی ذمہ داری اور مشترکہ عمل میں اجتماعی ذمہ داری کا اندازہ بخوبی کر سکتا ہوں"۔

مختلف بین الاقوامی گروپوں کے ترجمانوں نے عالمی تنظیم کے اندر آنتونیو گٹریس کے تقرر کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایک ایسا جرات مند سکریٹری جنرل چاہتے ہیں جو اپنے اختیارات کو بنا کسی جانب داری یا خوف کے تنظیم کے منشور کے مطابق عمل میں لائے۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب سمانتھا پاور نے گٹریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "جنرل سکریٹری ہونے کے طور پر ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ امن قائم کرنے والے، تنظیم کی اصلاح کرنے والے اور انسانیت اور انسانی حقوق کی مدد کرنے والے ثابت ہوں گے"۔

تاہم یہاں سوال یہ آتا ہے کہ کیا سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حامل پانچ ممالک (جو اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں) گوترش کو مکمل خود مختاری سے حرکت میں آنے کے لیے چھوڑ دیں گے ؟

نئے جنرل سکریٹری نے اپنے تقرر کے بعد براہ راست نشر ہونے والے پہلے خصوصی انٹرویو میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "خود مختار رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ آپ ناقابل قبول دباؤ کی مزاحمت کے ساتھ خود مختار رہیں۔ سکریٹری جنرل پر لازم ہے کہ وہ ایک ایمان دار شخص کی طرح تمام ممالک کو خدمات پیش کرے.. یہ نہیں کہ ایک یا دو یا فقط تین چار ممالک کا خادم بن جائے۔ میں اس بات کا متمنی ہوں کہ مذکورہ پاسداری کی حفاظت کروں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں