.

بھارت کے زیر انتظام جموں میں جاسوسی کے الزام میں 150 کبوتر ''گرفتار''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ڈیڑھ سو سے زیادہ کبوتروں کو جاسوسی کے الزام میں ''گرفتار'' کر لیا ہے۔یہ کبوتر مبیّنہ طور پر جاسوسی کے مقاصد کے لیے اسمگل کیے گئے تھے۔حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جموں شہر کے وکرم چوک سے 5 اکتوبر کو تین افراد کو پکڑا گیا تھا۔وہ ان ڈیڑھ سو کبوتروں کو بکسوں میں ڈال کر لے جا رہے تھے۔

بعد میں ان افراد کے خلاف بے رحمیِ حیوانات اور پرند ایکٹ کی شق 144 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا اور کبوتروں کو ایک غیر سرکاری تنظیم ''سیو'' کے حوالے کردیا گیا۔

اس این جی او کے چئیرمین کو ان کبوتروں کے جسموں کے ساتھ بعض مشتبہ چیزیں نظر آئیں اوران صاحب نے ڈپٹی کمشنر جموں کو ایک تحریری درخواست کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔اس پر ڈی سی صاحب نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ آیا ان کبوتروں کو جاسوسی کی سرگرمیوں کے لیے تو استعمال نہیں کیا جارہا تھا۔

سیو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نمرتا حقو کے مطابق ان کبوتروں کے پنجوں میں مختلف رنگوں میں خاص قسم کڑے تھے اور بعض کے ساتھ خصوصی مقناطیسی کڑے بھی لگے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان کے بارے میں شک مزید پختہ ہوا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں کبوتروں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔اسی ماہ کے اوائل میں بھی بھارت میں سرحدپار سے آنے والے ایک کبوتر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ضلع پٹھان کوٹ کے بامیال سیکٹر میں سمبل چوکی پر تعینات بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اس کبوتر کو پکڑا تھا۔ انھیں اس کے ساتھ اردو میں لکھا ہوا ایک خط بھی ملا تھا جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ یہ 1971ء نہیں ہے۔

بھارت کی ریاست مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں 23ستمبر کو مبینہ طور پر سرحد پار سے آنے والے ایک کبوتر کو پکڑا گیا تھا۔اس کے ساتھ بھی اردو میں لکھی ہوئی ایک تحریر ملی تھی۔

گذشتہ سال مئی میں پاکستان کی سرحد سے اس پار واقع ضلع پٹھان کوٹ کے بامیال سیکٹر میں دیہاتیوں نے ایک اور مشتبہ کبوتر کو پکڑا تھا۔اس کبوتر پر ''شکرگڑھ '' اور ''نارووال'' کے الفاظ انگریزی میں لکھے ہوئے تھے۔اس کے علاوہ اردو میں کچھ الفاظ اور نمبر بھی لکھے ہوئے تھے۔

مئی 2010ء میں بھارتی پولیس نے ضلع امرتسر میں ایک جاسوس کبوتر کو گرفتار کیا تھا۔اس کے پنجوں میں بھی ایک رنگ تھا اور اس پر سرخ رنگ کی روشنائی سے پاکستانی فون نمبر اور پتے کی مہر لگائی گئی تھی۔