.

سعودی عرب : صحرا میں ٹرک چلانے والی خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ یہ جان کر یقیناً حیران ہوں گے کہ سعودی عرب، جہاں خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت نہیں ہے،وہاں ایک بڑی عمر خاتون ٹرک چلاتی ہیں اور وہ بھی بے آب گیاہ صحرائی علاقے میں۔

وزنہ سعودی عرب کے شہر حائل کے شمال میں واقع الدہناء کے صحراء میں رہتی ہیں۔ان کے خاندان کا رہن سہن بدویانہ ہے اور وہ دوسرے بدویوں کی طرح ایک خیمے میں رہتا ہے۔ساٹھ سال کی عمر کی اس خاتون کے پاس ٹرک چلانے کے لیے کوئی لائسنس نہیں ہے اور شاید انھیں اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ سعودی عرب میں خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں اور یوں انھیں ڈرائیونگ لائسنس بھی جاری نہیں کیا جاتا ہے۔

باپردہ وزنہ نے صحرائی علاقے میں نوعمری ہی میں ٹرک چلانا سیکھ لیا تھا اور وہ الدہنا کے تمام داخلی اور خارجی راستوں اور چپّے چپّے سے واقف ہیں۔انھیں اس علاقے سے مرد ڈرائیوروں سے بھی زیادہ واقفیت ہے۔

انھوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ '' میں کسی معاشی مقصد کے لیے ٹرک نہیں چلا رہی ہوں بلکہ گھر کا سودا سلف اور روزمرہ استعمال کی اشیاء لانے کے لیے چلاتی ہوں۔میں اس کے ذریعے دور دراز سے پانی گھر لاتی ہیں''۔

وزنہ کا کہنا تھا کہ ''میرا ٹرک چلانے کا فیصلہ بڑا واضح ہے کیونکہ اس صحرا میں خاندان کی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنا میری ذمے داری ہے،اس لیے مجھے اشیائے ضروریہ لانے کے لیے پک اپ ٹرک چلانا پڑتا ہے''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت تو نہیں ہے لیکن ایسا کوئی تعزیری قانون اور ضابطہ بھی نہیں ہے جس میں اس امر کی صراحت کی گئی ہو کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی ممانعت ہے۔البتہ حکومت کسی خاتون کو لائسنس جاری نہیں کرتی ہے جس کی وجہ سے انھیں مرد ڈرائیوروں یا اپنے رشتے داروں کے ساتھ گھر سے باہر سفر کے لیے جانا پڑتا ہے۔