امریکی انتخابی معرکے میں "فلافل" کیسے داخل ہو گئے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلافل" (خاص قسم کے عربی پکوڑے) جن کو انگریزی میںfalafel لکھا جاتا ہے مشرق وسطی کا ایک مشہور کھانا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ بنیادی طور پر مصری پکوان ہے جو قدیم قبطیوں کے یہاں گوشت کے متبادل کے طور پر کھایا جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ شام پہنچا جہاں فلافل کی تیاری میں مصری لوبیے کو چنے سے تبدیل کر دیا گیا اور اس کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ بعض لوگوں کا دعوی ہے کہ فلافل کی تاریخ مصر میں فرعونی زمانے سے وابستہ ہے۔ علاوہ ازیں ترکی اور اسرائیل بھی اس بات دوڑ میں دعوے دار ہیں کہ مذکورہ پکوان کا آغاز ان کی سرزمین سے ہوا۔ بہرکیف آغاز کی تاریخ سے قطع نظر فلافل آج ایک بین الاقوامی کھانا بن چکا ہے جو دنیا بھر میں بہت سے ممالک میں موجود ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان دوسرے مناظرے کے بعد ایک عرب نژاد امریکی خاتون شہری نے یہ ٹوئیٹ کر ڈالا کہ "لفظ فلافل کا حقیقی معنی کفار کا قتل ہے۔ ہم نے طویل زمانے تک اس راز کو محفوظ رکھا "۔

یہ تبصرہ مسلمانوں کی ٹرمپ کے بارے میں گفتگو کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا جس میں انہوں نے مسلمانوں کو ایک طرح کا جاسوس گروپ گمان کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ حکام کو ہر بات سے آگاہ کریں۔

فلافل سے متعلق چُٹکلا چھوڑنے والی خاتون کا نام ہند عمری ہے جنہوں نے ٹوئیٹر پر اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ مشرقی اور مغربی دونوں ہیں اور یہ کہ وہ امریکی شہری اور پناہ گزین ہیں۔

رواں ماہ (اکتوبر) کی 9 تاریخ کو پوسٹ کیے جانے کے بعد سے مذکورہ ٹوئیٹ کو 4348 مرتبہ Re-tweet کیا جاچکا ہے جب کہ اس کو 11767 لائیکس مل چکے ہیں۔ ٹرمپ کے جواب میں کیے گئے اس ٹوئیٹ کے حوالے سے دلچسپ تبصرے بھی سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے علاوہ درجنوں امریکیوں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ایکی امریکی خاتون نے کہا کہ "جو بھی پر فلافل کا ذائقہ زبردست ہے اس لیے میں اس کو کھاتی رہوں گی"۔ ایک امریکی مرد نے لکھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں امریکی کانگریس کی کیفیٹریا میں فلافل کی فروخت شروع کر دینا چاہیے"۔

علاوہ ازیں متعدد امریکی ویب سائٹوں نے فلافل کے ٹوئیٹ کے بارے میں بہت کچھ تحریر کیا ہے اور اس موضوع کے حوالے سے بعض ٹوئیٹ اور آراء بھی نقل کی ہیں۔

کیا فلافل کو بطور عرب علامت کے خطرے کا سامنا ہے بالخصوص جب کہ اسرائیلی اس کی تیاری میں مہارت دکھاتے ہوئے امریکا میں فلافل کے ریستورانوں میں بڑے مقابل بن چکے ہیں۔

ستمبر میں ایک اسرائیلی اخبار "دی ٹائمز آف اسرائیل" نے نیویارک شہر میں فلافل کے ایک ریستوران کے افتتاح کی خبر شائع کی تھی اور یہ تحریر کیا تھا کہ نیویارک کے رہنے والوں کو ماہر باورچن امانڈا فرائی ٹیگ کے ہاتھوں تیار ہونے والے فلافل کے ایک ہلکے اور منفرد کھانے سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔

بہرکیف مشرق اور مغرب کے درمیان اپنی شناخت کو تقسیم کرنے والی اس مسلمان خاتون کے ٹوئیٹ کی وجہ سے فلافل بھی امریکی صدارتی انتخابات میں داخل ہوچکے ہیں۔

یہ فلافل عرب بن جائیں گے یا امریکی.. اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا !

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں